ممبئی حملے: ’پاکستان میں ملزمان کو سزا کے لیے قانون میں تبدیلی ضروری‘

Image caption ممبئی کا مشہور ہوٹل تاج بھی شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بنا تھا

بھارتی شہر ممبئی میں منظم شدت پسند حملوں کو منگل کو پانچ برس مکمل ہو رہے ہیں اور جہاں بھارت میں اس واقعے کے مرکزی ملزم اجمل قصاب کو گزشتہ برس سزائے موت دی جا چکی ہے وہیں پاکستان میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زیرِ حراست ملزمان کو قانونِ شہادت میں تبدیلی کیے بغیر سزا دلوانا ممکن نہیں۔

26 نومبر 2008 کو شدت پسندوں نے ممبئی کے کئی مقامات پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا اور اس انتہائی مربوط حملے میں شہر کے مصروف شیوا جی ریلوے سٹیشن ، تاج اور اوبرائے ہوٹل اور مقبول نیوپولڈ کیفے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

لشکرِ طیبہ کی جڑیں پھیل گئی ہیں

حملے سے پھانسی تک: اجمل قصاب کی ٹائم لائن

ان حملوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں بہت سے غیر ملکی بھی تھے۔

بھارت نے اس واقعے کے بعد زندہ پکڑے جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب کو تو عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت پر گزشتہ برس عملدرآمد کر دیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس نے اس حملے کی سازش کرنے کے لیے عسکریت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اور پاکستان سے ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

Image caption بھارت ممبئی حملوں کی سازش کے لیے لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کو مورد الزام ٹھہراتا ہے

پاکستانی حکام نے حافظ سعید کو حراست میں بھی لیا گیا لیکن ان کے خلاف کوئی قانونی ثبوت نہ ہونے کے پیش نظر حکومتِ پاکستان کو انہیں رہا کرنا پڑا۔ تاہم ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں اس وقت پاکستان میں ایک مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور سات ملزمان ذکی الرحمن لکھوی، حماد امین صادق، عبدالواحد، شاہد جمیل ریاض، جمیل احمد، محمود یونس انجم اور مظہر اقبال پر فرد جُرم عائد کی جا چکی ہے۔

پاکستان اور بھارت کی تاریخ میں ممبئی حملے شدت پسندی کا پہلا ایسا واقعہ ہیں کہ جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے قانونی کارروائی کے سلسلے میں تعاون کیا۔

تاہم پاکستانی قانون کے ماہرین کے مطابق ممبئی حملوں کی سازش کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کو اُس وقت تک سزا نہیں مل سکتی جب تک پارلیمنٹ قانونِ شہادت میں ترمیم نہیں کرتی۔

پاکستان کے قانون شہادت کے سیکشن 43 کے تحت اگر کوئی بھی گرفتار ملزم مجسٹریٹ کے سامنے کوئی اقبالی بیان دیتا ہے تو وہ بیان اُس کے خلاف تو استعمال ہوسکتا ہے لیکن واقعاتی شہادتیں دیگر ملزمان کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتیں۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ جس طرح ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی وزارت داخلہ کے اہلکار کا بیان پاکستانی عدالتوں میں قابل سماعت نہیں ہے اُسی طرح ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی پولیس کی طرف سے کی جانے والی تفتیش کو ممبئی حملہ سازش کیس کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

خیال رہے کہ بھارتی سرکاری اہلکار نے بیان حلفی میں کہا تھا کہ ممبئی حملے کی منصوبہ بندی بھارت میں ہی ہوئی تھی اور اس میں مقامی افراد ہی ملوث ہیں۔

سردار اسحاق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں بھارتی حکومت کی طرف سے بھیجے جانے والے ڈوزیئر کی بنیاد پر اس مقدمے کا فیصلہ نہیں سُنایا جاسکتا۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران بھارت کی طرف سے سنہ 2010 سے اب تک 14 کے قریب معلوماتی ڈوزیئر پاکستان کو بھیجے جا چکے ہیں اور یہ تمام ڈوزیئر کسی سٹیمپ پیپر پر نہیں بلکہ سادہ صفحے پر اور اصل تحریر کی فوٹو کاپی ہیں جو کہ قانونی ماہرین کے مطابق کسی طور پر بھی پاکستانی قانون شہادت کے تحت قابلِ سماعت نہیں۔

فوجداری مقدمات کے ایک اور وکیل بشارت اللہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اجمل قصاب سے کی جانے والی تفتیش یکطرفہ ہے اور اُس کے اقبالی بیان کو بنیاد بنا پر کسی دوسرے شخص کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ اجمل قصاب نے اپنا اقبالی بیان 21 فروری 2009 کو دیا جبکہ پاکستان میں اس حملے کی سازش تیار کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ ملزم کے اقبالی بیان سے نو دن قبل درج کر لیا گیا تھا۔

Image caption اجمل قصاب کو گزشتہ نومبر میں پھانسی دے دی گئی تھی

پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن بھی چند ماہ قبل بھارت بھیجا تھا جس نے اب تک اس مقدمے میں ہونے والی عدالتی کارروائی کی تفصیلات بھارتی حکام کو فراہم کی تھیں۔

اس پاکستانی عدالتی کمیشن میں شامل ملزمان ذکی الرحمن لکھوی اور حماد امین صادق کے وکیل ریاض چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت میں اُنہوں نے صرف دو بھارتی اہلکاروں پر جرح کی جن میں اجمل قصاب کا بیان ریکارڈ کرنے والی مجسٹریٹ شری متی ساونت اور مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ رمیش مہلے شامل ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ جرح کے دوران ان بھارتی افسران نے جو ثبوت پیش کیے اُن میں سے ایک بھی ثبوت سٹیمپ پیپر پر نہیں تھا اور نہ ہی اُن افراد کے بیانات بیان حلفی پر تھے جنہیں اس ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

ریاض چیمہ کا کہنا تھا کہ وہ اُس عدالتی کمیشن کا بھی حصہ تھے جو گذشتہ برس مارچ میں بھارت گیا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت کمیشن نے اجمل قصاب سے ملنے اور اس پر جرح کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن بھارتی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب تک مرکزی ملزم پر جرح نہ ہو تو پھر اس بات کو عدالت میں کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں گرفتار ہونے والے ملزمان اجمل قصاب کے ساتھی ہیں۔

اس مقدمے میں استغاثہ پنجاب پولیس کے سی آئی ڈی کے تین افسران کے بیانات پر تکیہ کیے ہوئے ہے جن میں ان افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان نے نہ صرف ممبئی حملوں کی سازش تیار کی بلکہ اس کے لیے تیاری بھی کی۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹہ میں کالعدم لشکر طیبہ کے ایک سرگرم کارکن کی اراضی پر دریا کے کنارے تربیت حاصل کرتے تھے۔

چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے پاس جاپان سے اس مقدمے میں استعمال ہونے والی کشتیوں کے انجن کی خریداری سے لے کر کشتیوں کی تیاری اور اس ضمن میں رقم کی فراہمی تک کا ریکارڈ موجود ہے۔

وکیل نے دعویٰ کیا کہ اُن موبائل کالز کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے جو ملزمان نے ممبئی حملوں میں شامل افراد کو کی تھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام ریکارڈ ملزمان کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

خیال رہے کہ اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں کی تعداد 115 ہے جن میں سے ابھی تک صرف 19 گواہوں کے بیانات مکمل ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق پولیس اور ایف آئی اے سے ہے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت ستائیس نومبر کو ہونا ہے۔

اسی بارے میں