’اب ہمارا یقین کہی سنی پر مبنی ہوتا ہے‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشور پر فرقہ ورانہ جھڑپوں کے دس روز بعد اُس مسجد کے اطراف میں زندگی معمول کی جانب لوٹتی دکھائی دی جہاں پر ان جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا۔

لیکن اس واقعے کے بارے میں لوگوں کے پاس کہنے کے بہت کچھ تھا اور ہر ایک پاس الگ کہانی تھی۔ پاکستان جیسے ملک میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر بھی فوجی بغاوت کی افواہیں شدت اختیار کر جاتی ہیں، وہاں فرقہ واریت کے اس حساس معاملے پر غیر مصدقہ اطلاعات ایک طرف تو عام لوگوں کی بے چینی کا سبب بنیں، وہیں مذہب کے نام پر تفریق بھی مزید گہری ہوتی دکھائی دی۔

پنڈی کے راجہ بازار کی مدینہ مارکیٹ میں جب میں لوگوں سے انٹرویو کر رہی تھی تو ایک شخص نے بے قابو ہو کر کہا: ’سو بندے مارے گئے تھے۔‘ دوسری طرف ایک اور شخص نے کہا: ’بچوں کو بھی مارا گیا تھا۔‘ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ان بچوں کے بارے میں پتہ ہے کہ وہ کون تھے اور کس ہسپتال لے جایا گیا، تو وہ بتا نہ سکے۔ ان کا یقین کہی سنی پر مبنی تھا، آنکھوں دیکھا حال نہیں تھا۔

اس بازار کی طرح سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر واقعے کے بارے میں خوب تبادلۂ خیال ہوا۔ کس نے شروع کیا؟ کس نے پہلا پتھر مارا؟ کتنے لوگ اور کس مسلک کے ہلاک ہوئے؟ اور کیا یہ ایک دانستہ سازش تھی؟ ایسے سوال گردش کر رہے ہیں۔

اگرچہ واقعے کے روز ٹیلی وژن چینلوں نے لائیو کورج نہیں کی، ٹوئٹر اور فیس بک پر ہر قسم کی افواہوں کو مزید ہوا دی گئی۔ مثال کے طور پر ایک افواہ یہ ہے کہ مشتعل افراد نے اس مسجد میں گھس کر بچوں سمیت لوگوں کے گلے کاٹ کر مار دیا۔ اس کے ثبوت کے لیے ایسی تصاویر پیش کی گئیں جو شام جیسے پر تشدد ممالک میں بھی استعمال کی گئی تھیں۔ یہ افواہ عام ہے کہ سو سے زیادہ لوگ مرے تھے اور بچوں کے گلے کاٹے گئے تھے۔

تاہم بی بی سی اردو کی تحقیق کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ اتنی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور بچوں کے گلے کاٹے گئے ہوں۔

Image caption پنڈی کے راجہ بازار کی مدینہ مارکیٹ میں بہت سے تاجروں کو نقصان ہوا

اس دن زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ڈاکٹر قاسم خان اس رات شعبۂ حادثات میں ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات نو بجے کے بعد لاشیں اور زخمی آنے شروع ہوئے۔ اس وقت آٹھ لاشیں تھیں اور 36 زخمی۔ مرنے والوں میں سے تین کو اینٹوں یا ڈنڈوں سے مار کر ہلاک کیا گیا، تین کو گولیوں سے اور دو کو تیز دھار ہتھیار سے مار کر ہلاک کیا گیا۔

ڈاکٹر قاسم نے خود لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بات واضح ہےکہ ’جس کو بھی مارا گیا، ان پر جارحانہ حملے ہوئے تھے۔ ایک لاش کو نہ صرف سر اور ٹانگ پرگولیاں لگی تھیں بلکہ پیٹ پر ڈنڈوں سے بھی مارا گیا تھا۔‘

انہوں نے مجھے مزید بتایا کہ ایسا مشکل ہے کہ سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہوں یا بچوں کے گلے کاٹے گئے تھے کیونکہ زخمی اور لاشیں اسی ہسپتال میں آتی ہیں: ’اس ہسپتال کا علاقہ وہی ہے جہاں فسادات ہوئے تھے۔ اگر ان لوگوں کا ریکارڈ موجود ہے، تو وہ کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟‘

ان کا کہنا تھا کہ دو لاشوں کی شناخت نہیں کی گئی تھی، جبکہ باقی چھ کا تعلق راولپنڈی، صوابی، بٹاگرام اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے باغ سے تھا۔ یہ تمام ریکارڈ پولیس کو دیے جا چکے ہیں۔

محمد علی اس روز جلوس میں شامل تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح سے سوشل میڈیا پر بتایا گیا، واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا تھا اور جب انہوں نے اس تاثر کو صحیح کرنے کی کوشش کی تو انہیں برا بھلا کہا گیا۔

’بدقسمتی ہے کہ ہمارے کچھ صحافی نے بھی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ویب سائٹس پر ایسا مواد ڈالا جس کو میں نے ہٹانے کی درخواست کی مگر وہ نہیں مانے۔ اس سے مزید اشتعال پھیلا۔‘

ٹوئٹر پر دانش عباسی نے لکھا کہ اس دن میڈیا کی کورج ناکافی تھی: ’پہلے میڈیا نے کہا کہ یہ دو گروہوں کے درمیان فساد تھا، جو بالکل غلط ہے۔ ایک مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نے دوسرے پر حملہ کیا۔ دوسرا، جیسے انچولی میں لائیو کورج ہوئی، اسی طرح یہاں بھی ہونی چاہیے تھی۔‘

دوسری جانب نام نہ لینے کی شرط پر جائے وقوعہ پر موجود نجی چینل کے ایک نمائندے نے مجھے بتایا کہ لوگ ان سے شکایت کر رہے ہیں کہ میڈیا نے اصلیت پر پردہ ڈالا اور ہلاکتوں کی اصل تعداد نہیں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائیو کورج نہ کرنے کی ایک وجہ تکنیکی مسائل تھی: ’ہم سیٹلائٹ فون استعمال کر رہے تھے، لیکن سگنل بہت کمزور تھے۔ دوسرا مشتعل ہجوم نے ہماری ڈی ایس این جی گاڑیوں پر حملے کیے۔ میرا ایک بیپر تو اسی وجہ سے نہیں ہو پایا۔ موقعے پر موجود رپورٹرز کی دونوں طرف کے لوگوں نے پٹائی کی تھی اور معلومات اکٹھی کرنے میں مشکلات اس لیے بھی ہوئیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان معاملوں میں لفظوں کا انتخاب بہت محتاط رہ کر کرنا پڑتا ہے اور صرف دو ذرائع سے تصدیق شدہ حقائق بتائے جاتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینلز پر کئی سالوں تک الزام لگایا جا تا رہا کہ وہ بم حملوں اور فسادات کے دوران لاشیں دکھا کر سنسنی پھیلاتے ہیں۔

صحافی ضرار کھورو نے ٹوئٹر پر لکھا: ’معلومات اور حقائق کے باوجود لوگ اسی بات پر یقین کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ قومی سطح پر انتشار پھیلنے کا خدشہ تھا اسی لیے میڈیا کو محتاط رہنا پڑا۔‘

روایتی میڈیا نے اگرچہ اس بار معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر دور اندیشی کا مظاہرہ کیا، سوشل میڈیا نے شاید انتشار میں اضافہ کیا۔ پاکستان میں ایک محدود طبقہ ہی ہے جو سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتا ہے لیکن جو افواہیں پروان چڑھتی ہیں، وہ آگ کی طرح پھیلتی ہیں۔

اسی بارے میں