نئے آرمی چیف کو درپیش چیلنج

Image caption ملک کی داخلی صورتحال کے حوالے سے نئے آرمی چیف کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ سویلین قیادت کے ساتھ بیٹھ کر انسدادِ دہشتگردی میں فوج کے کردار کا تعین کریں: معید یوسف

جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ کو نہ صرف ملک کی طاقتور ترین شخصیت تصور کیا جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انھیں اہم ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے پاکستانی فوج کی کمان ایک ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب پاکستان کی داخلی صورتِ حال کے علاوہ عالمی منظرنامے میں بھی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب اگلے سال دہشت گردی سے جکڑے پاکستان کی سرحد کے اس پار افغانستان سے نیٹو افواج کاانخلا ہو گا تو پاکستانی فوج کے نئے سپہ سالار کے لیے اہم چیلنج کیا ہوں گے؟

تجزیہ کار معید یوسف کہتے ہیں کہ ملک کی داخلی صورتِ حال کے سلسلے میں نئے آرمی چیف کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ سویلین قیادت کے ساتھ بیٹھ کر انسدادِ دہشت گردی میں فوج کے کردار کا تعین کریں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں اندرونی دہشت گردی کا معاملہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ کوئٹہ جیسا شہر بھی کنٹرول میں نہیں ہے، کراچی کا حال آپ کے سامنے ہے، تو سب سے پہلا چیلنج تو یہ ہوگا کہ داخلی صورتِ حال میں فوج کا کردار کیا ہوگا اور کہاں پہ ہوگا:

’آرمی چیف کو اپنی سویلین قیادت کے ساتھ بیٹھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ فوج جو کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں آپریشن کر رہی ہے تو کیا کوئٹہ، کراچی اور دیگر جگہوں پر اس کا کوئی کردار ہوسکتا ہے یا پھر شہروں میں پولیس اور رینجرز ہی کام کریں گے؟‘

خارجی چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ نئے چیف کو افغانستان کے لیے مرحلہ وار کام کرنا ہوگا: ’پہلے تو تقریباً ایک سال تک یعنی دسمبر 2014 تک پاکستانی فوج کو پوری کوشش کرنی ہوگی کہ افغانستان خانہ جنگی کی طرف نہ جائے۔ 2014 کے بعد دوسرے مرحلے میں دیکھنا ہوگا کہ اگر افغانستان خانہ جنگی کی طرف جاتا ہے پھر پاکستان کو ایسی حکمتِ عملی بنانی ہوگی کہ اس کا کم سے کم اثر پاکستان پر پڑے۔‘

ان کا مزید کہا ہے کہ اگر افغانستان میں حالات ٹھیک رہتے ہیں تو پاکستانی فوج کا کام صرف اپنی سرحد کا دفاع ہوگا اور ڈیورنڈ لائن کی خلاف ورزیوں کو روکنا ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کو کنڑ اور نورستان میں پناہ لینے والے پاکستانی طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحد کے اندر کی جانے والی کارروائیوں کو بھی روکنا ہوگا۔

تجزیہ کار اور صحافی نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ نئے آرمی چیف کے لیے چینلج واضح ہیں: ’پاکستان افغانستان میں امن دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت یہی سمجھتی ہے کہ اگر افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا جیسے کہ گذشتہ 30 برس سے پڑ رہا ہے۔‘

افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگ پر بات کی جائے تو اہم سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ پاکستان کے حق میں نہیں کہ اپنے برسوں پرانے وفاداروں کی حمایت کر کے کابل میں پاکستان حامی حکومت لائی جائے؟

دفاعی امور کے تجزیہ کار رشید خالد سمجھتے ہیں کہ حکومت سابقہ غلطی نہیں دہرائےگی: ’البتہ نواز شریف اور عمران خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ حکومت یہ غلطی کرے گی۔ مگر اس ملک میں ایک چیز ہے جسے اسٹیبلشٹمنٹ کہتے ہیں اور ان سے آپ کسی بھی بیوقوفی کی امید کر سکتے ہیں۔ ابھی ان کی خواہش تو ہو گی کہ ان کے پاس تمام تر طاقت ہو۔ وہ ماضی کی جانب جانے کی شاید کوشش ضرور کریں مگر جانا نہیں چاہیے۔ سٹریجک ڈیپتھ نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔‘

نئے چیف کے سامنے مشکلات کے حوالے سے قائدِاعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر ظفر جسپال کے خیالات ذرا مختلف ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’2014 کے بعد صورتِ حال بہت مختلف ہو جائے گی کیونکہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد ملک میں پشتون یا مسلمان بھائیوں کی زمین پر غیر ملکی قبضے کا جو نظریاتی جواز بنایا جاتا ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔ انخلا کے بعد ہی یہ دیکھا جا سکے گا کہ جو دہشت گرد قوتیں ابھی پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہیں، وہ کس جانب رخ کرتی ہیں۔‘

ڈاکٹر جسپال کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط فہمی پر مبنی ہے کہ پاکستان کے صرف طالبان کے ساتھ روابط ہیں۔ پاکستان کے اس وقت تمام گروہوں کے ساتھ اچھے روابط ہیں، وہاں پر حکومت کے ساتھ بھی، اور شمالی اتحاد کے ساتھ بھی برف پگھل چکی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ایس سی او کا رکن بننے کا خواہاں بھی ہے جس کے روس اور چین دونوں ہی حامی ہیں۔

’اگر پاکستان اس تنظیم میں شامل ہو جاتا ہے تو پاکستان کی مجبوری بن جائے گی کہ ہم یورپی ایشیائی سیاسی تناظر میں شمالی اتحاد کی بھی حمایت کریں۔ اور اگر پاکستان نے وہ غلطی دہرائی جو 90 کی دہائی میں کی تھی تو یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘

تجزیہ نگار افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کے علاوہ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک پر بھی بات کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر نواز جسپال کہتے ہیں آج کل میزائلوں کا دور ہے اور سٹریٹجک ڈیپتھ صنعی انقلاب سے پہلے کا تصور ہے۔ ہاں اگر افغانستان میں بھارت بیٹھ کر کارروائیاں کرے گا تو اس کا ردِعمل ضرور آئے گا جو ’پراکسی وار‘ ہوگی۔ وہ کہتے ہیں پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور افغانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ وہ اپنا ملک مستحکم کر سکیں۔

انھوں نے کہا: ’میرا نہیں خیال کہ نئے چیف پرانی پالیسیوں کی جانب جائیں گے۔ میرے خیال میں نئے فوجی سربراہ کے لیے داخلی دہشت گردی سے زیادہ مشرقی بارڈر چیلنج ہوگا۔ حکومتِ پاکستان کی اس وقت کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ روابط بہتر کیے جائیں اور عسکری بجٹ پر قابو پایا جائے۔ آرمی چیف کے لیے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اس طرف ایسی فوج ہے جو 42 ارب ڈالر کے بجٹ پر کام کر رہی ہے اور انھیں تقریباً چھ ارب ڈالر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں