پولوگراؤنڈ ریفرنس: زرداری پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ

Image caption عدالت نے مقدمے کی سماعت چھ دسمبر تک ملتوی کی ہے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ملک کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف نیب کے تین مقدمات بحال کرتے ہوئے وزیرِاعظم ہاؤس میں پولوگراؤنڈ کی تعمیر کے مقدمے میں ان پر نو دسمبر کو فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

احتساب عدالت نے رواں ماہ آصف علی زرداری کو ان کے خلاف قومی احتساب بیورو میں درج مقدمات کے بارے میں نوٹس جاری کیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق منگل کو احتساب عدالت نے سماعت کے دوران آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف ایس جی ایس کوٹیکنا، اے آر وائی گولڈ اور پولو گراؤنڈ کی تعمیر کے تین ریفرنس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ پولو گراؤنڈ کی تعمیر کے ریفرنس میں ملزم آصف زرداری کے وکیل کو متعلقہ دستاویزات فراہم کی جا چکی ہیں جس پر عدالت نے حکم دیا کہ نو دسمبر کو آئندہ سماعت پر اس ریفرنس میں ملزم پر فردِ جرم عائد کی جائے۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں کوٹیکنا کیس میں تاحال ریفرنس کی کاپی نہیں ملی ہے جس پر عدالت میں موجود نیب کے حکام نے انہیں آئندہ چند دن میں دستاویزات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

اے آر وائی گولڈ ریفرنس میں آصف زرداری کے صدر بننے سے پہلے ہی ان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی تھی چنانچہ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے مقدمے کے گواہان کو نوٹس جاری کر دیے۔

سماعت سے قبل فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری کو آج کی سماعت میں حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی جو عدالت نے منظور کر لی۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو یقین دلایا کہ آئندہ سماعت پر ان کے موکل عدالت میں ضرور پیش ہوں گے۔

آصف علی زرداری کے خلاف نواز شریف کے سابقہ دورِ حکومت میں چار ریفرنسوں سمیت 12 مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے وہ آٹھ مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔

احتساب عدالت میں دائر کیے گئے چار ریفرنسوں میں ابھی تک وہ ملزم ہیں جن میں ایس جی ایس کوٹیکنا، اے آر وائی گولڈ، ٹریکٹروں کی خریداری اور وزیراعظم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ کی تعمیر کے ریفرنس شامل ہیں۔

یہ مقدمات سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور سابق صدر پرویز مشرف کے درمیان ’ڈیل‘ کے نتیجے میں نافذ ہونے والے قومی مصالحتی آرڈینینس (این آر او) کے تحت ختم کر دیے گئے تھے۔

بعدازاں پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے این آر او کو کالعدم قرار دیے جانے کی وجہ سے اس کے تحت ختم ہونے والے تمام مقدمات دوبارہ بحال ہوگئے تھے۔

تاہم آصف زرداری اس وقت پاکستان کے صدر بن چکے تھے اور ان کے صدارتی استثنیٰ کی وجہ سے ان ریفرنسوں پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہو سکی تھی۔

ان ریفرنسوں کے علاوہ سوئس عدالتوں میں بھی آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ زیرِ سماعت رہا ہے تاہم اب سوئس حکام اس مقدمے پر کارروائی سے اس بنا پر معذرت کر لی ہے کہ یہ مقدمہ زائد المعیاد ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں