جنرل راحیل شریف پاکستانی فوج کے نئے سربراہ مقرر

Image caption جنرل راحیل چیف آف آرمی سٹاف بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویلوئیشن کے عہدے پر فائز تھے

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو ملک کی بری فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ جنرل راشد محمود کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے مشورے پر ملک کے صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ممنون حسین نے جنرل راحیل شریف اور جنرل راشد محمود کی جرنیل کے عہدے پر ترقی اور بالترتیب چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جوائٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا ہے۔

بّری فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف

ایک جانب عجلت تو دوسری طرف خاموشی

ان دونوں جرنیلوں نے بدھ کی صبح وزیراعظم ہاؤس میں میاں نواز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

جنرل راحیل شریف پاکستان کے بری فوج کے 15ویں سربراہ ہوں گے جو 29 نومبر کو کمان سنبھالیں گے۔

Image caption جنرل راشد محمود اس سے قبل چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز تھے

وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ لیں گے جو 6 سال تک پاکستان کے بری فوج کے سربراہ رہنے کے بعد 28 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

جنرل راحیل چیف آف آرمی سٹاف بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویلوئیشن کے عہدے پر فائز تھے۔ اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر گوجرانوالہ اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ کے عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔

1956 میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جنرل راحیل شریف نے 1976 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور وہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں نشانِ حیدر پانے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔

ملک کے نئے آرمی چیف کی تقرری سینیارٹی کی بنیاد پر نہیں کی گئی ہے اور سینیارٹی کے لحاظ سے سرِ فہرست لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کو سپر سیڈ کر کے جنرل راحیل کا تقرر کیا گیا ہے۔

وہ سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے جبکہ دوسرے سینیئر ترین جنرل راشد محمود کو پاکستانی افواج کا سب سے اعلیٰ مگر رسمی عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی دیا گیا ہے۔

جنرل راشد محمود اس سے قبل چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز تھے اور وہ کور کمانڈر لاہور بھی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں