’طالبان کی وجہ سے چھاپے نہیں مار سکتے‘

Image caption ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمات چلانے کے لیے انسداد دہشت گردی کی پانچ عدالتیں قائم کرنے کی تجویز ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں سپریم کورٹ کو کسٹم کے حکام نے بتایا ہے کہ سہراب گوٹھ میں منشیات اور اسلحے کے گودام ہیں لیکن طالبان کی موجودگی کے باعث وہ کارروائی نہیں کر سکے۔

چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔

کسٹم حکام نے عدالت کو بتایا کہ سہراب گوٹھ منشیات اور اسلحے کا سب سے بڑا اڈا ہے جہاں آصف سکوئر، جنت گل ٹاؤن اور مچھر کالونی میں منشیات، اسلحے اور سمگلنگ کے سامان کے گودام موجود ہیں۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کسٹم کے چیف کلیکٹر یحیٰی خان نے عدالت کو بتایا کہ اسلحہ، منشیات اور سمگلنگ کا سامان پبلک بسوں کے ذریعے لایا جاتا ہے اور ویگنوں اور سوزوکیوں کے ذریعے شہر کے دیگر علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سہراب گوٹھ میں پشتون آبادی کی اکثریت ہے، لیکن اردو بولنے والی آبادی بھی موجود ہے۔ علاقے میں طالبان کی موجودگی اور تسلط قائم ہے اور اس وجہ سے کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سوال کیا کہ کیا انھوں نے یہ معلومات سندھ حکومت کو دی ہے، چیف کلیکٹر یحیٰی خان نے اس کا جواب مثبت میں دیا اور بتایا کہ پولیس اور رینجرز محرم کی سکیورٹی کے باعث مصروف تھے لیکن اب مشترکہ کارروائی کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید نے بتایا کہ پانچ نومبر سے 8942 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے مختلف اقسام کے 2293 ہتھیار اور 220 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا اور 1386 ایف آئی آر درج کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمات چلانے کے لیے انسداد دہشت گردی کی پانچ عدالتیں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست کردی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ مقدمات کی پیروی کے لیے دو سو تفتیشی افسران بھرتی کیے جا رہے ہیں لیکن افسران میں خوف ہے اور وہ سہمے ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پچھلے دنوں پبلک پراسیکیوٹر عبدالمعروف پر حملہ کیا گیا تھا جس کا انہوں نے سامنا کیا اور ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا جسے بعد میں گرفتار کرلیا گیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان کی رپورٹ اطمینان بخش ہے لیکن ٹرائل نہ ہوا اور شواہد میں بہتری نہیں آئی تو ملزمان رہا ہوجائیں گے۔

جسٹس خواجہ ایس جواد نے سوال کیا کہ افغانستان کی موبائل سم پاکستان میں کیسے استعمال ہوتی ہے اور ایک مقدمے میں بلوچستان کے ایک پولیس افسر افغانستان کی سموں کا ٹوکرا بھر کر لے آئے تھے جو ساری ایکٹو تھیں۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر نے بتایا کہ افغانستان کی سم 14 سو سے دو ہزار روپے میں مل جاتی ہے اور پاکستان کی کمپنیاں اس کو بلاک نہیں کرسکتیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ دبئی اور افغانستان کی جو سمیں یہاں استعمال ہو رہی ہیں انہیں کیسے روکا جائے؟ اس پر اٹارنی جنرل منیر ملک نے انہیں درخواست کی کہ یہ تکنیکی معاملہ ہے اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کو نوٹس جاری کریں۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی اے اور پانچ موبائل فون کمپنیوں کو جمعرات کو طلب کرلیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے احکامات کے بعد وصولی میں بہتری آئی ہے اور گذشتہ بیس روز میں دو کروڑ 90 لاکھ روپے وصول کیے گئے ہیں جو گذشتہ سال کے مقابلے میں دو کروڑ دس لاکھ روپے زیادہ ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور کسٹم ٹیکس کی وصولی ڈالروں میں کرتے ہیں اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وصولی میں بہتری آئی ہے۔

اسی بارے میں