جنرل راحیل شریف سے امیدیں اور توقعات

Image caption جنرل راحیل ایک نازک ترین دور میں پاکستان فوج کی قیادت سنبھال رہے ہیں

کیا پاکستان میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ ملک کے نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جنگ بن پائے گی؟

بارہ سال قبل یہی سوال جنرل مشرف کے سامنے تھا۔ لیکن اس کا ایک دو ٹوک اور واضح جواب تلاش کرنے کی بجائے انہوں نے فریب اور دوغلے پن کا سہارا لیا۔ نہ صرف قوم اور اتحادیوں سے بلکہ کبھی کبھار تو خود سے بھی جھوٹ بولا۔ اور ان کے اس فریب کی آڑ میں طالبان ایک یا دو قبائلی ایجنسیوں سے پھیلتے ہوئے سوات پر جا قابو ہوئے۔

لگ بھگ چھ برس قبل تقریباً ایک ہی وقت یہ سوال آصف علی زرداری اور جنرل کیانی کے سامنے ابھرا اور ان دونوں کے بیچ ٹینس کی گیند بن گیا۔ زرداری حکومت نے دہشتگردی سے متعلق تمام پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کا اختیار فوجی قیادت کو دے دیا۔ جنرل کیانی نے پہلے میڈیا کے ذریعے اور پھر براہ راست حکومت کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جب تک مذہبی انتہا پسندی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو جاتا فوج کوئی حتمی حکمت عملی تشکیل نہ کر پائے گی۔

اس دوران القاعدہ اور طالبان جنگجؤ جی ایچ کیو اور بحریہ کے اڈے پر حملہ آور ہوئے اور امریکی کمانڈو ایبٹ آباد تک گھس آئے۔

اور اس سال یہی سوال میاں نواز شریف اور عمران خان کے سامنے آیا تو میاں صاحب نے تو اس پر ایک پراسرار سی خاموشی اختیار کر لی جبکہ عمران خان کھلم کھلا طالبان کے ساتھ جا کھڑے ہوئے۔ نتیجتاً امریکیوں نے اپنے ڈرونز کا رخ افغانستان میں برسرپیکار جنگجؤں سے پاکستان پر حملہ آور شدت پسندوں کی جانب موڑ دیا۔

اور یوں پچھلے بارہ برسوں میں یہ جنگ کسی کی جنگ نہ بن سکی، نہ جنرل مشرف، نہ جنرل کیانی، نہ آصف زرداری اور نہ ہی میاں نواز شریف کی۔ شاید اسی لیے القاعدہ اور طالبان نے اس جنگ میں پے درپے کامیابیاں حاصل کیں اور حالات کو اس نہج پر لا کھڑا کیا کہ آج عوام کی نظر میں پاکستان کی پوری سیاسی قیادت مذہبی جنگجؤں کے سامنے معافی کی طلبگار دست بستہ ہے جبکہ پوری بین الاقوامی برادری پاکستانی قیادت کی پشت پر ملامت کے کوڑے برسا رہی ہے۔

لیکن ان بارہ برسوں میں ایک بات بالکل واضح ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری اب زبانی لعنت ملامت کو قطعی ناکافی سمجھنے لگی ہے۔ اب فیصلہ یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی سے یا تو پاکستان نمٹے یا پھر دنیا خود نمٹ لے گی۔ پاکستان کی علاقائی خود مختاری کا راگ سننے کو اب کوئی تیار نہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان کے خارجی امور کے مشیر کے اس بیان کے فوراً بعد کہ امریکہ نے امن مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، امریکی ڈرون قبائلی علاقوں سے بندوبستی علاقوں میں آ دھمکے۔

اگلے برس افغانستان سے تو غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہو جائے گا لیکن امریکی ڈرون پاکستان کی فضائی حدود میں ہی رہیں گے۔ جنرل راحیل یہ تو جانتے ہی ہوں گے کہ عوام ہوں یا خواص، پاکستان میں جتنی توقعات آرمی چیف سے وابستہ کی جاتی ہیں اتنی سیاسی قیادت سے کبھی نہیں۔

شاید انہیں اس بات کا بھی احساس ہو کہ جنرل مشرف کے بعد نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان میں ایک اور طالع آزما سیاسی جنرل دیکھنے کی خواہش یا حوصلہ تقریباً دم توڑ چکا ہے۔

اب پاکستان اور دنیا کو ان سے محض یہ توقع ہے کہ وہ ملک کے عسکری معاملات کو سنبھالنے میں اس پیشہ وارانہ قابلیت کا مظاہرہ کریں جو جنرل کیانی اپنے چھ سالہ دور میں چھ دن بھی نہ کر پائے۔

اور ایسا کرنے کا سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ دہشتگردی کی اس جنگ کو اپنائیں جس کا اب تک نام لینے سے بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے پر جلتے رہے۔

اسی بارے میں