پاکستانی فوج کی کمان کیانی سے شریف کو منتقل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی فوج کے نئے سربراہ جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی میں منعقدہ تقریب میں باضابطہ طور پر برّی فوج کی کمان سنبھال لی ہے۔

کمان کی تبدیلی کی تقریب جمعہ کی صبح بری فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی۔

بری فوج کی کمان کی تبدیلی: تصاویر

جنرل راحیل سے وابستہ امیدیں اور توقعات

جنرل کیانی کی قیادت کے چھ برس

جنرل راحیل شریف پاکستان کے بری فوج کے 15ویں سربراہ ہیں اور انھوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ لی ہے جو چھ سال تک پاکستان کے بری فوج کے سربراہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس تقریب میں اعلیٰ فوجی اور سول شخصیات شریک ہوئیں۔ تقریب کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

کمان کی تبدیلی کی تقریب میں آزاد کشمیر رجمنٹ کے ایک دستے نے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو اعزازی گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد اپنے الوداعی خطاب میں انھوں نے کہا کہ جو بھاری ذمہ داری انھیں سونپی گئی تھی وہ باعزت طریقے سے ان سے عہدہ برا ہوئے ہیں۔

Image caption جنرل اشفاق پرویز کیانی چھ برس تک برّی فوج کے سپہ سالار رہے

جنرل کیانی نے کہا کہ جب انھوں نے کمان سنبھالی تو فوج کو بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا جن سے نمٹنے کے لیے یکسوئی کے ساتھ پیشہ ورانہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کی ضرورت تھی اور آج جب وہ ریٹائر ہو رہے ہیں تو فوج اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں نے اپنے دور میں جو بھی فیصلے کیے ان میں ملک و قوم اور فوج کا مفاد مقدم رکھا‘ اور یہ کہ اگر نیت صاف ہو تو مشکل وقت میں نئے در کھل جاتے ہیں اور خود ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قوموں کے سامنے مشکلات آتی رہتی ہیں لیکن ان سے نمٹنے کے لیے ’ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا ہوگا‘۔

تقریب سے خطاب کے بعد جنرل کیانی نے پاکستانی فوج کی کمان کی علامتی چھڑی ستاون سالہ جنرل راحیل شریف کے ہاتھ میں تھما دی جس کے ساتھ ہی پاکستانی فوج میں ان کا 42 برس سے زیادہ عرصے پر مشتمل عسکری کریئر اختتام کو پہنچ گیا۔

اس دوران جہاں وہ نومبر 2007 سے 28 نومبر 2013 تک بری فوج کے سپہ سالار رہے وہیں انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، وائس چیف آف آرمی سٹاف اور پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں برّی فوج کے سربراہ کے عہدے کی مدت تین برس ہے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جنرل کیانی کو تین برس کی توسیع دی تھی۔

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے اب ان کی جگہ ستائیس نومبر کو جنرل راحیل شریف کو ملک کی بری فوج کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔

1956 میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جنرل راحیل شریف نے 1976 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔

وہ چیف آف آرمی سٹاف بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویلوئیشن کے عہدے پر فائز تھے۔ اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر گوجرانوالہ اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ کے عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مدیر عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل ایک نازک ترین دور میں پاکستان فوج کی قیادت سنبھال رہے ہیں اور عوام ہوں یا خواص، پاکستان میں جتنی توقعات آرمی چیف سے وابستہ کی جاتی ہیں اتنی سیاسی قیادت سے کبھی نہیں۔

ان کے مطابق ملک کے نئے فوجی سربراہ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ دہشتگردی کی اس جنگ کو اپنائیں جس کا اب تک نام لینے سے بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے پر جلتے رہے ہیں۔

ادھر مسلح افواج کے نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے بھی جمعہ کی صبح اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔جنرل راشد محمود اپنی ترقی اور اس نئی تقرری سے قبل چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز تھے۔

اسی بارے میں