آئی ایم ای آئی کے بغیر موبائل فون کی درآمد پر پابندی

Image caption پولیس مطابق چین سے آنے والے کئی موبائل فونز پر ایک ہی آئی ایم ای آئی نمبر تحریر ہوتا ہے

سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ انٹرنیشنل موبائل ایکوپمنٹ آئیڈنٹی یعنی آئی ایم ای آئی پر ایک روز میں ایک سے زائد سموں کا اجرا نہیں کیا جائے گا اور ایک ہی آئی ایم ای آئی پر پانچ سموں کا اجرا نہیں ہوگا۔

آئی ایم ای آئی رجسٹرڈ موبائل فون سیٹ میں موجود آلہ ہے جس کی مدد سے صارف کی کسی جگہ موجودگی کے مقام کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔اگر آئی ایم ای آئی کو بلاک کر دیا جائے تو موبائل فون ناکارہ ہو جاتا ہے۔

فون سِم کی جلد تصدیق کرائیں: پولیس

کراچی بد امنی کیس میں عدالت نے حکم جاری کیا کہ موبائل فون کمپنیاں ان تمام لوگوں کا پتہ لگائیں جن کے شناختی کارڈ پر دس سمیں جاری کی گئی ہیں۔ تصدیق کے وقت صارف سے خفیہ سوال پوچھے جائیں اور ان کے جوابات درست دینے کی صورت میں صارف سے ان کے نام پر جاری کیے گئے نمبرز کی تصدیق کی جائے۔

سپریم کورٹ نے کسٹم حکام کو ہدایت جاری کی کہ موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبرز کے بغیر موبائل فون درآمد کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

یاد رہے کہ ماضی میں پولیس کو یہ شکایت رہی کہ چین سے آنے والے کئی موبائل فونز پر ایک ہی آئی ایم ای آئی نمبر تحریر ہوتا ہے، جس وجہ سے جرائم پیشہ افراد کا پتہ لگانے یا چوری شدہ اور چھینے گئے موبائل کی بازیابی کے لیے کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

عدالت نے موبائل سم جاری کرنے کا طریقہ کار تشکیل دینے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنانے کی بھی منظوری دی، جس میں چاروں صوبائی حکومتوں، وفاقی حکومت، پولیس، ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ ٹاسک فورس تین ہفتوں میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے بندرگاہوں پر کسٹم ڈیوٹی کی وصولی کی نگرانی کے لیے بھی کمیشن کے قیام کی منظوری دی جو عدلیہ، اقتصادی اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل ہوگا۔اس کا کام چھاپے مار کر ریکارڈ چیک کرنا ہوگا۔

دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اسمٰعیل شاہ سے سوال کیا کہ غیر تصدیق شدہ سموں کو فعال بنانے کی مشین کہاں سے آئی؟ جس پر ایڈیشنل آئی جی بلوچستان میر زبیر نے بتایا کہ یہ ڈیوائس ایئرپورٹ سے آئی ہوگی جہاں اس کو چیک نہیں کیا گیا ہوگا۔ چیئرمین پی ٹی اے اسمٰعیل شاہ نے بتایا کہ یہ ڈیوائس پاکستان میں بھی بنائی جاسکتی ہے۔

ہتھیاروں کی برآمد کا معاملہ

کسٹم کی جانب سے گزشتہ تین برسوں میں درآمد کیے گئے ہتھیاروں کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سوال کیا کہ کراچی میں کتنا اسلحہ موجود ہے، اس کا کوئی سروے یا اندازہ ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل خالد جاوید نے بتایا کہ بے تحاشہ ہتھیار موجود ہیں لیکن ان کی تعداد کے بارے میں اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اتنے جدید اور خودکار ہتھیار تو شاید پاکستان کی فورسز کے پاس بھی نہیں جو ملزمان کے پاس ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ کون ہیں جو دن رات گاڑیوں میں اسلحے کے ساتھ دندناتے رہتے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لےکر اب تک بڑی تبدیلی آئی ہے اس کو آئینی اور قانونی انقلاب کہہ سکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ آپ حکمت عملی بناتے رہے ہیں لیکن غیر قانونی اسلحہ برآمد کرکے دیں۔

اسی بارے میں