مہمند: سکیورٹی فورسز پر حملہ، تین اہلکار ہلاک

فائل فوٹو
Image caption ذرائع کے مطابق یہ حملہ یارو خیل کے علاقے میں موجود سوات سکاؤٹس کے اہلکاروں پر کیا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے نتیجے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے پشاور میں ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ یہ واقعہ مہنمد ایجنسی کے تحصیل بائیزو کے علاقے یارو خیل میں سنیچر کی سہ پہر کو پیش آیا۔

ذرائع کے مطابق یہ حملہ یارو خیل کے علاقے میں موجود سوات سکاؤٹس کے اہلکاروں پر کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

سکیورٹی فورسز نے حملے کے بعد جوابی کارروائی بھی کی تاہم اس کارروائی میں کسی قسم کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

مہمند ایجنسی دوسرے قبائلی علاقوں کی طرح شدت پسند حملوں، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی زد میں رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے بھی تحصیل پنڈیالہ میں ایک حملے میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

ستمبر کے آخر میں مہمندایجنسی میں ایک زیر تعمیر ڈیم کے عملے پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں انجینیئر سمیت تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے جبکہ عملے کے دو افراد کو اغواء کرلیا گیا تھا۔

مہمند ایجنسی میں تعلیمی اداروں کو بھی بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

فروری کے آخر میں صافی تحصیل میں مسلح افراد نے لڑکوں کے چار سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا تھا۔

مہمند ایجنسی میں مذہبی رہنما بھی بم دھماکوں کی زد میں رہے ہیں۔

گذشتہ سال 19 نومبر میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حُسین احمد کے جلسے کے قریب خودکُش دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں