پشاور: پولیو ٹیم کے محافظوں پر فائرنگ، ایک ہلاک

Image caption سپیشل پولیس فورس کے اہلکاروں کو نہ تو مکمل تربیت دی جاتی ہے اور نہ دیگر مراعات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں انسداد پولیو ٹیم کو تحفظ فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

ہلاک ہونے والا سپیشل پولیس فورس کا اہلکار تھا۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ مقامی پولیس کے مطابق دونوں اہلکاروں کو انسدادِ پولیو ٹیم کو تحفظ فراہم کرنے پر مامور کیا گیا تھا اور ڈیوٹی کے بعد جب وہ واپس آ رہے تھے تو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور جاتے ہوئے اہلکار کی بندوق ساتھ لے گئے ہیں۔

سپیشل پولیس فورس میں نوجوانوں کو مخصوص تنخواہ پر بھرتی کیا جاتا ہے اور انھیں نہ تو مکمل تربیت فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی انھیں کسی قسم کی دیگر مراعات دی جاتی ہیں جبکہ انھیں انتہائی خطرناک ڈیوٹی پر مامور کر دیا جاتا ہے ۔

ہلاک ہونے والے ذاکر آفریدی سپیشل پولیس فورس کے اہلکار تھے اور اسے دس ہزار روپے ماہوار تنخواہ پر بھرتی کیا گیا تھا۔ سپیشل فورس کے اہلکار ہلاک یا زخمی ہونے کی صورت میں بھی کسی امدادی رقم کے مستحق نہیں ٹھہرائے جاتے۔

اکتوبر کے مہینے میں بھی ایک بم دھماکے میں دو غیر تربیت یافتہ اہلکار ہلاک اور تقریباً ایک درجن زخمی ہو گئے تھے۔ یہ دھماکہ بڈھ بیر کے قریب اس وقت ہوا تھا جب یہ غیر تربیت یافتہ نوجوان ایک پک اپ گاڑی میں انسداد پولیو ٹیم کے اس مرکز پہنچے تھے جہاں سے ٹیموں نے روانہ ہونا تھا۔

یاد رہے کئی دن پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے چند اساتذہ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا جو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کے لیے مہم میں حصہ لے رہے تھے لیکن چند روز بعد وہ واپس آگئے تھے اور کہا گیا کہ انھیں اغوا نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستان میں گذشتہ ایک سال سے انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں جس کے بعد ان کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کر دیے جاتے ہیں۔

ان ٹیموں پر حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد ان ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں کی ہے۔

اسی بارے میں