’عمران خان کا انقلابی ایجنڈا کیا صرف نیٹو سپلائی کی بندش تھا‘

Image caption صوبے میں لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ عمران خان کی جماعت کو ووٹ اپنے روز مرہ کے مسائل حل کرنے کے لیے دیے تھے یا بڑی طاقتوں سے ٹکر لینے کے لیے؟

پاکستان میں جوانوں کومتحرک کرنے کی صلاحیت رکھنے والے عمران خان 60 سال سے زیادہ عمر کے ہوگئے ہیں لیکن ان کے حامی انہیں جوان سے کم کچھ ماننے کو تیار نہیں۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جوں جوں ان کی عمر بڑھتی جا رہی ہے لوگ انہیں مزید جوان سمجھتے ہوئے ان کو پاکستانی سیاست میں نیا خون کہہ رہے ہیں۔

عمران خان آج کل اپنی پارٹی کے ذریعے نیٹو سپلائی کا راستہ روکے ہوئے ہیں جو بطور سیاسی جماعت ان کا حق ہے۔ لیکن وہ جب بطور جماعت یہ سب کچھ کر رہے ہیں تو ساتھ ہی صوبہ خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت تقریباً چھ ماہ کا عرصہ پورا کر چکی ہے اور اب تو تبدیلی کے نام پر ان کے اردگرد اکٹھے ہونے والے کچھ لوگ بولنا شروع بھی ہوگئے ہیں کہ وہ انقلابی ایجنڈا کیا صرف نیٹو کی سپلائی پر پوری شدت کے ساتھ عمل تک محدود تھا؟

عمران خان کی تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں اقتدار کی مسند سنبھالنے کے بعد تعلیم اور صحت کے حوالے سے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس پرتاحال عمل شروع نہیں ہو سکا۔

اگر وہ چاہتے تو اپنے صوبے کے کالجوں میں ماضی کی طرز پر سوشل ورک کے منصوبے شروع کر سکتے تھے جن کے تحت طلبہ کو بی اے کی ڈگری تبھی ملتی جب وہ دورانِ تعلیم مخصوص مدت کے لیے سماجی خدمت یا سوشل ورک کا کام کرتے جس میں صحت و صفائی سے لے کر ناخواندہ افراد کو ابتدائی تعلیم دینے جیسے کام شامل ہو سکتے ہیں۔

عمران خان کو ملنے والے صوبے میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سکول جانے کی عمرتک پہنچنے والے 15 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے، 30 لاکھ بچے اس کے علاوہ ہیں جو پانچویں یا آٹھویں کلاس میں تعلیم چھوڑ چکے ہیں اور بہت سارے ایسے بچے ہیں جو ورکشاپوں میں کام کرتے ہیں۔ وہ انہیں سکولوں میں لانے کے لیے انقلابی کام کر سکتے تھے۔

اندرون اور بیرون ملک عمران خان کے حامیوں میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین بھی شامل ہیں اور ان کی مدد سے زیر تعلیم بچوں کی مستقبل میں اپنے پیشے کے انتخاب میں رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ صوبے میں2500 ایسے سکول جہاں صرف ایک استاد ہے، وہاں پارٹی رضاکار کلاسیں لینا شروع کر دیتے جب کہ سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ورکرز کمیٹی کو ذمہ داری دی جا سکتی تھی۔

صوبے کے دارالحکومت پشاور میں گندگی اور ٹریفک کے مسائل نے لوگوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اگر اس صورت میں عمران خان شہر میں صفائی کی مہم خود شروع کرتے تو شہری بیماریوں سے بچ سکتے تھے اور پشاور کو ملک کا ماڈل شہر بنایا جا سکتا تھا۔

اگر بات صحت کی جائے تو بیرون ملک سے ڈاکٹروں کو یہاں فری طبی کیمپ لگانے کی دعوت دی جاتی جس سے مقامی ڈاکٹروں میں بھی ہفتے میں کم از کم ایک دن مفت طبی سہولیات مہیا کرنے کا رجحان پیدا ہوتا۔

اس طرح دوا ساز کمپنیوں کو فلاحی کاموں میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جا سکتا تھا اور اس کے علاوہ وہ صوبے میں نجی علاج کے سب سے بڑے مرکز ڈبگری گارڈن میں مڈل مین کی بدعنوانی کو ختم کر سکتے تھے جس سے دور دراز کے علاقوں سے آنے والے غریب مریض ڈاکٹر کے پاس پہنچنے سے پہلے لٹنے کے عمل سے بچ جاتے۔

اسی پی ٹی آئی کی حکومت طرح صوبے میں صاحب حیثیت افراد کی مدد سے پینے کے صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے پانی کی ترسیل کے بوسیدہ نظام کو بہتر کر سکتی تھی۔ سرکاری ہسپتالوں میں انتظامی امور میں بھی اصلاحات کی وسیع گنجائش موجود ہے جس سے مریضوں کو علاج کی فوری سہولت میسر ہو سکتی ہے۔

Image caption صوبے میں ڈھائی ہزار ایسے سکول ہیں جہاں صرف ایک استاد ہے۔

صوبائی حکومت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے پر توجہ دے سکتی تھی۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں صوبے کے وزیراعلیٰ رہائش پذیر ہیں لیکن یہاں بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔

صوبے میں لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ عمران خان کی جماعت کو ووٹ اپنے روز مرہ کے مسائل حل کرنے کے لیے دیے تھے یا اقتدار دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ ان کے مسائل حل نہ کریں لیکن ہاں بڑی طاقتوں سے ٹکر لے لیں۔

ایسے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ملک کی خودمختاری کا دفاع اولین فرض تو ہے لیکن اس پر وقت لگتا ہےگ ایسے میں کیا یہ ضروری نہیں کہ عوام کی بخشی ہوئی طاقت اور عمران خان اور پارٹی کی اپنی سمجھ بوجھ کو عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے پر صرف کیا جاتا۔

اسی بارے میں