پنڈی سانحہ: چار پولیس اہلکاروں سمیت پینتیس گرفتار

Image caption یوم عاشور پر چند مشتعل افراد نے دکانوں کو بھی نذرِ آتش کیا

پنجاب پولیس نے سانحۂ پنڈی کی تفتیش کے دوران 35 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کا تعلق اسلام آباد پولیس سے ہے۔

راولپنڈی پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس نے دس محرم الحرام کو پنڈی میں پیش آنے والے واقعے کے الزام میں اتوار کی شب شہر کے مختلف علاقوں میں مزید 21 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس پہلے ہی 14 افراد کو حراست میں لے چکی ہے جن سے آلاتِ قتل اور دیگر اوزار برآمد ہوئے ہیں۔

راولپنڈی پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ گرفتاریاں واقعے سے متعلق ویڈیو فوٹیج سے ملنے والے شواہد کے تحت عمل میں آئی ہیں۔

افسر کے مطابق 12 ملزمان کی شناخت ہوگئی ہے جنھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

Image caption واقعے کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا

پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے پنڈی کے مختلف ہوٹلوں کے علاوہ دیگر شہروں میں چھاپوں کاسلسلہ جاری ہے تاکہ کوئی ملزم سزا سے نہ بچ سکے۔

پولیس کے بیان کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں مرکزی ملزم ندیم شاہ عرف دیمی سمیت دیگر ملزمان کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔

راولپنڈی میں فرقہ وارانہ تشدد کا واقع اس وقت پیش آیا تھا جب عاشور کا جلوس راجہ بازار میں واقع ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ فرقہ وارانہ تصادم میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ مسجد سمیت کئی دکانوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

واقعے کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کے باعث پنجاب حکومت نے راولپنڈی میں کرفیو لگا دیا تھا جو تین دن تک نافذ رہا۔

سانحہ کے خلاف ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا جس میں حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ سانحۂ پنڈی کی تحقیقات کے لیے غیرجانبدار کمیشن بنایا جائے۔

حکومت پنجاب نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شیخ مامون رشید کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا ہے۔

کمیشن نے پیر سے سانحۂ پنڈی سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات قلم بند شروع کیے اور یہ سلسلہ چھ دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس موقعے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں