کراچی: وحدت المسلمین کے رہنما سمیت دس ہلاک

Image caption نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے علامہ دیدار علی جلبانی ایوب گوٹھ کی مسجد حسینی کے خطیب تھے

کراچی میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وحدت المسلمین کے رہنما سمیت مختلف واقعات میں دس افراد ہلاک ہوگئے۔

مجلس وحدت المسلمین کے رہنما سمیت تین افراد کی ہلاکت کے بعد ایم اے جناح روڈ پر ہنگامہ آرائی کی گئی۔

این ای ڈی یونیورسٹی کامران چورنگی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس میں مجلس وحدت المسلمین کے رہنما دیدار جلبانی اور ان کے محافظ ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کے خلاف مجلسِ وحدت نے بدھ کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ مشتعل افراد نے ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور نمائش چورنگی پر ٹائروں کو نذر آتش کیا۔ اس کے علاوہ شیعہ آبادی والے علاقوں سے بھی احتجاج کی اطلاعات ہیں۔

مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے حکومت کو متنبہ کیا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دیدار جلبانی کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو پھر وہ راست اقدام کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ علامہ دیدار علی جلبانی کے قتل میں وہی عناصر ملوث ہیں جنھوں نے راولپنڈی میں عاشورہ کے روز ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی منظم سازش کی تھی۔

اس سے پہلے ایس پی پیر محمد شاہ نے کہا تھا کہ شہر میں گزشتہ چند دنوں سے جاری فرقہ وارنہ بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا نتیجہ لگتا ہے۔

خیال رہے کہ نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے علامہ دیدار علی جلبانی ایوب گوٹھ کی مسجد حسینی کے خطیب تھے اور انھوں نے مجلسِ وحدت المسلمین کے امیدوار کی حیثیت سے کراچی سے سندھ اسمبلی کے حلقہ 126 سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

دوسری جانب اہل سنت و الجماعت کے کارکن مفتی احمد کی نمازِ جنازہ قبا مسجد بندہانی کالونی میں ادا کی گئی۔ وہ گزشتہ روز فیڈرل بی ایریا میں کلینک پر فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر ناظم آباد بلاک آئی کے قریب ایک مسجد کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں جنھیں عباسی شہید ہپستال پہنچایا گیا۔

عباسی شہید ہپستال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے اور انھیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

میڈیکل لیگو آفس سے امیر نامی اہلکار نے بتایا کہ زخمیوں کے ساتھ آنے والوں نے انھیں بتایا ہے کہ یہ تبلیغی جماعت کے رکن ہیں جن میں سے کچھ مراکش سے آئے تھے۔

ایس ایس پی وسطی عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں مراکش کے دو شہری شامل ہیں جن کی شناخت خطاب الودی اور مجید زرتوی کے نام سے کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں کب یہاں آئے اس کی تفصیلات دستیاب نہیں کیونکہ ان کا شیڈول تبلیغی مرکز کے پاس ہوتا ہے۔

ایس ایس پی کے مطابق واقعہ شہر میں جاری فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا ہی سلسلہ لگتا ہے۔

ادھر کراچی میں سخی حسن کے قریب موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ایک سیاہ رنگ کی پک اپ پر فائرنگ کی ہے جس میں چار افراد سوار تھے۔

فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت مشتاق مہمند، جمشید، خان زادہ، عبدالحمید اور شیر زمان کے نام سے ہوئی ہے۔

مشتاق مہمند عام انتخابات میں صوبائی حلقے پی ایس 96 پر آزاد امیدوار تھے انہیں تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔

اس علاقے میں کئی شادی ہال بھی موجود ہیں، جو فائرنگ کے واقعے کے بعد خالی ہوگئے ہیں۔

اسی علاقے سے چند کلومیٹر دور اس سے پہلے مسجد پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں بھی تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اہل سنت و الجماعت کے مرکزی ترجمان مولانا اورنگزیب فاروقی نے مسجد پر فائرنگ اور تین افراد کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قتل کسی کا بھی ہو قابل مذمت ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو بے نقاب کیا جائے۔

اسی بارے میں