لاپتہ افراد کیس: ’تین مزید افراد کا سراغ مل گیا ہے‘

Image caption سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت حکومت کی جانب سے مہلت مانگنے پر جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔

اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ لاپتہ افراد مقدمے میں آج فیصلہ سنا دیا جائے گا اور اگر لاپتہ افراد عدالت میں پیش نہ کیے گئے تو فیصلے سے وزیر اعظم اور آرمی چیف متاثر ہو سکتے ہیں۔

’آپ کیا سمجھتے ہیں کہ چیف گیا تو معاملہ ختم ہوجائے گا؟‘

’جو بھی بازیاب ہوتا ہے وہ ایف سی کی گود سے نکلتا ہے‘

عدالت کے سامنے آج وزیر دفاع خواجہ آصف پیش ہوئے جنہوں نے عدالت سے مہلت مانگی جس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ مہلت نہیں ملے گی۔

چیف جسٹس نے کہا وزیر دفاع سے کہا کہ بینچ آج رات گئے تک بیٹھے گا: ’حکومت یا تو لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرے نہیں تو فیصلہ سنا دیا جائے گا جس سے وزیر اعظم یا بّری فوج کے سربراہ متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

وزیر دفاع خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے سلسلے میں ان کی گذشتہ روز بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ہوئی اور آج وزیر اعظم میاں نواز شریف سے بھی ہوئی ہے۔

قائم مقام سیکریٹری داخلہ ایڈیشنل سیکریٹری میجر جنرل ریٹائرڈ عارف نذیر نے بھی عدالت سے مہلت مانگی جس پر عدالت نے ان کو مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ آج ڈھائی بجے تک لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کریں۔

قائم مقام سیکریٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ 35 افراد میں سے پانچ کا سراغ مل گیا ہے۔

’ان پانچ افراد میں سے دو کی ہلاکت ہو چکی ہے، ایک سعودی عرب میں ہیں اور دو پاکستان ہی میں کام کر رہے ہیں۔‘

عدالت نے قائم مقام سیکریٹری دفاع سے کہا کہ یا تو لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کریں یا ان افراد کے نام دیں جن سے ان کی بازیابی کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے پیر کو حکم دیا تھا کہ اگر لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو وزیر دفاع اور سیکریٹری دفاع لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے والے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف اغوا کی دفعات کے تحت مقدمات درج کریں۔

اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ اُنھیں وزارتِ دفاع کے حکام نے بتایا تھا کہ 35 لاپتہ افراد میں سے دو ہلاک ہوچکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان افراد میں سے ایک اس سال جولائی میں جب کہ دوسرا گذشتہ برس دسمبر میں ہلاک ہوا تھا۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دورانِ حراست کسی شخص کی ہلاکت قتل کے زمرے میں آتی ہے اور ذمے داران افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ میں حراستی مرکز کے سپرنٹینڈنٹ عطا اللہ کے مطابق اس حراستی مرکز میں 35 افراد موجود تھے جنھیں فوج کے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔

عدالت نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا کہ وہ خود زندہ بچ جانے والے 33 افراد کو عدالت میں پیش کریں۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں اس وقت 43 حراستی مراکز ہیں۔

عدالت کے حکم پر وزیر دفاع خواجہ آصف بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے بینچ سے استدعا کی کہ اس معاملے میں کچھ دنوں کی مہلت دی جائے تاہم عدالت نے اُن کی استدعا مسترد کردی۔

اسی بارے میں