ایک سال میں دس خواجہ سرا قتل

Image caption خواجہ سراؤں کو ووٹ کا حق بھی دے دیا گیا تھا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گذشتہ ایک سال کے دوران تقریباً دس خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر جسم فروشی کرتے تھے۔

صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے اس مرکز میں پاکستان کے کئی شہروں سے خواجہ سرا آتے ہیں۔ دو سال قبل کی گئی رجسٹریشن میں ان کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زائد سامنے آئی تھی۔

خواجہ سراؤں کے قتل کی وارداتیں گلستان جوہر، کورنگی، اختر کالونی، کیماڑی، لائنز ایریا میں پیش آئی ہیں، جن میں سے بعض کو سر میں گولیاں مار کر اور بعض کو گلا دبا کر ہلاک کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں سے اکثر 20 سے 25 سال کی عمر کے تھے۔

خواجہ سراؤں کی تنظیم ’جینڈر انٹر ایکٹو الائنس‘ کی صدر بندیا رانا کا کہنا ہے کہ کئی کو دوسری جگہوں پر بلا کر قتل کیا گیا اور بعض اپنے ہی گھر میں ہلاک کر دیے گئے۔ بقول ان کے ’سیکس ورکر‘ خواجہ سرا اپنے گھر کے علاوہ باہر بھی جسم فروشی کرتا ہے اب اس کو تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے والا کون ہے اور اس کے ساتھ آج کیا ہونے والا ہے۔

کیماڑی پولیس کے تفتیشی افسر مختیار تنولی 50 سالہ خواجہ سرا سموئیل کے قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں، جنھیں دو ماہ قبل قتل کیا گیا تھا۔ مختیار تنولی کو شبہ ہے کہ سموئیل کو پیسوں کی لالچ میں ہلاک کیا گیا ہے۔

مختار تنولی نے کہا کہ ’اس کی عمر بڑھ گئی تھی اور اس نے کچھ پیسے جمع کیے تھے، جو غالبا بکسے میں موجود تھے جو ٹوٹا ہوا تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیسوں کے لالچ میں یہ قتل کیا گیا۔‘

مختیار تنولی کا خیال ہے کہ اکثر نوجوان خواجہ سرا جنسی تعلقات کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔ بقول ان کے کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص نے نوجوان خواجہ سرا کو باندی بنایا ہوا ہوتا ہے اور اس کو دس سے 15 ہزار روپے مہینہ دیتا ہے۔ اگر اس شخص نے اسی خواجہ سرا کو کسی دوسرے شخص کے ساتھ دیکھ لیا تو پھر وہ مارا جاتا ہے۔

کراچی میں سیاسی، لسانی اور عقیدے کی بنیادوں پر گذشتہ کئی برس سے لوگوں کو نشانھ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ خواجہ سراؤں کا قتل کسی گروہ کا نہیں انفرادی اقدام ہے۔

’جینڈر انٹر ایکٹو الائنس‘ کی صدر بندیا رانا بھی کسی گروہ اور کمیونٹی کی نشاندہی نہیں کرتیں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوا کہ خواجہ سرا مزید پریشانی کا شکار ہوجائیں اور دوسرا کوئی گروہ ان سے لڑائی کرنا شروع کردے۔

صوبائی وزیر محکمہ سوشل ویلفیئر روبینہ قائم خانی کو بھی خواجہ سراؤں نے اپنے ساتھیوں کے قتل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے پولیس سے ایک تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں ۔

خواجہ سراوں کے قتل کی ایف آئی آر کم ہی درج کی جاتی ہیں یا پیروی نہیں ہوتی۔ ’جینڈر انٹر ایکٹو الائنس‘ کی صدر بندیا رانا کا کہنا ہے کہ مقتولین کے لواحقین درمیان میں آجاتے ہیں کہ ایف آئی آر درج نہیں کرانی، کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس سے بدنامی ہوگی، اس صورتحال میں وہ مجبور ہوجاتے ہیں۔

Image caption حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

شہر کی کچی آبادیوں میں ہی ان خواجہ سراؤں کی رہائش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پکی آبادیوں میں انھیں کوئی کرائے کا مکان دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ شہر میں جمعرات کے روز دفاتر اور دکانوں میں یہ گداگری کرتے ہوئے نظر آتے تھے لیکن اب کئی مقامات اور خاص طور پر شام کے وقت سی ویو اور شہر کے مختلف چوراہوں پر لوگوں کے سامنے یہ ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

بندیا رانا کہتی ہیں کہ پولیس انھیں گداگری بھی کرنے نہیں دیتی اور اٹھا لیتی یا دھمکاتی ہے کہ ان کے خلاف آوارہ گردی کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

’جب بیروزگاری ہو، بھیک اور ناچ گانے بند ہوجائیں، خواجہ سراؤں کے بجائے ٹی وی اور اسٹیج آرٹسٹوں کو محفلوں میں ناچ گانے کی دعوت دی جائے تو خواجہ سرا سیکس ورکر ہی بنیں گے۔‘

سپریم کورٹ نے 2011 میں خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ کے اجرا، وراثت، سرکاری ملازمتوں میں دو فیصد کوٹہ، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ بندیا رانا کہتی ہیں کہ یہ سب تاحال صرف کاغذوں میں موجود ہے۔

صوبائی وزیر محکمہ سوشل ویلفیئر روبینہ قائم خانی کا کہنا ہے کہ تین ووکیشنل سینٹر قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں وہ بیوٹیشن سمیت دیگر کام سیکھ سکیں گے، ان کی کوشش ہے کہ ان سینٹرز میں ملازمت بھی خواجہ سراؤں کو ہی فراہم کی جائے۔

’ اس وقت سندھ میں سرکاری ملازمتوں پر پابندی ہے، وہ دوسرے محکموں سے رابطے میں ہیں تاکہ دو فیصد کوٹے پر عمل درآمد کرایا جائے۔‘

ووٹ کا حق ملنے کے بعد گذشتہ انتخابات میں کراچی، سکھر اور سرگودھا سمیت کئی شہروں میں خواجہ سرا بطور امیدوار بھی سامنے آئے۔ جینڈر انٹر ایکٹو الائنس کی صدر بندیا رانا نے کراچی سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا، جس میں وہ کامیاب تو نہیں ہوسکیں لیکن مقبول ضرور ہوئیں۔

جینڈر انٹر ایکٹو الائنس ایچ آئی وی ایڈز کے بارے میں آگاہی کے لیے بھی کام کرتا ہے۔ بندیا رانا کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا تعلق بھی غربت سے ہے۔

اسی بارے میں