حلقہ بندیوں کے خلاف آئینی درخواست

Image caption ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن جمع کروائی ہے

سندھ ہائی کورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں حالیہ بلدیاتی حلقہ بندیوں کے خلاف آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں دیہی حلقہ بندیاں ازسر نو تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ سنہ 2013 کے تحت شہری علاقوں میں میونسپل کارپوریشنیں اور میونسپل کمیٹیاں جب کہ دیہی علاقوں میں ضلع کونسلیں بنائی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں کراچی میں میونسپل کارپوریشن کی حدود میں یونین کمیٹیاں، جب کہ ملیر اور غربی کے دیہی اضلاع میں ضلع کونسلیں قائم کی گئیں۔

درخواست کے مطابق بلدیاتی اداروں کے نئے قانون کے مطابق ڈپٹی کمشنروں نے کراچی کی شہری حدود میں 40 سے 50 ہزار آبادی پر مشتمل یونین کمیٹیاں قائم کی ہیں جب کہ دیہی علاقوں میں دس سے 15 ہزار کی آبادی پر مشتمل یونین کونسلوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ حلقہ بندیاں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کی گئی ہیں، لہٰذا ملیر اور کراچی غربی کی 25 یونین کمیٹیاں جو دس سے 15 ہزار آبادی پر مشتمل ہیں، وہ از سر نو تشکیل دی جائیں اور انھیں بھی 40 سے 50 ہزار آْبادی پر مشتمل بنایا جائے۔

اس موقعے پر متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلدیاتی حلقہ بندیاں قبل از انتخابات دھاندلی کی نشاندہی کرتی ہیں کیونکہ ایک ہی شہر میں یونین کمیٹیاں 40 سے 50 ہزار آبادی پر جب کہ دیہی کونسلیں دس سے 15 ہزار آبادی پر مشتمل ہیں، جو مینڈیٹ چھیننے کی سازش ہے۔ جس سے شہریوں میں دوریاں پیدا ہوں گی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اس تقسیم کو تسلیم کیا گیا تو یونین کمیٹیوں کو بھی اتنے ہی فنڈز دیے جائیں جتنے 40 سے 50 ہزار آبادی پر مشتمل یونین کونسلوں کو فراہم ہوں گے، ورنہ یہ اقدام غیر آئینی ہوگا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حلقہ بندیوں کا مقصد شہر کی میئر شپ کا حصول ہے، وہ ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر الیکشن کمیشن نے 18 جنوری میں انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے جبکہ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ یہ انتخابات مارچ میں کرائے جائیں۔ صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے زبردستی کی تو یہ سندھ اسمبلی کی قرارداد کی خلاف ورزی ہوگی۔

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام میں بھی مذاکرات جاری ہیں۔

اسی بارے میں