کراچی:’500 دہشتگردوں کی فہرست تیار‘

Image caption سندھ میں رینجر پہلے ہی آپریشن کر رہے ہیں

سندھ حکومت نے پولیس کو مطلوب 500 دہشتگردوں کی فہرست تیار کر لی ہے جن کے سروں کی قیمت مقرر کرنے اورگرفتاری کے لیے میڈیا میں تشہیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں بدھ کو وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں، آئی جی سندھ پولیس شاہد ندیم بلوچ نے بتایا کہ ستمبر میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہونے سے اب تک 81 دہشتگرد اور دیگر جرائم پیشہ افراد مارے گئے ہیں جبکہ دس ہزار سے زائد گرفتار کیےگئے ہیں۔

آئی جی کے مطابق انھوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے چودہ سو سے زائد ضمانت پر رہا اور گیارہ بری ہو چکے ہیں جبکہ 43 کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

پولیس حکام نے 132 دستی بم، 222 کلو گرام دھماکہ خیزمواد اور دو خودکش جیکٹس اور پچیس سو سے زائد مخالف اقسام کے ہتھیار بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کراچی میں گزشتہ 72 گھنٹوں میں ایک درجن سے زائد افراد کو نشانہ بنایا گیا، جن میں شیعہ رہنما اور تبلیغی کارکن بھی شامل تھے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ یہ واقعات قطعاً فرقہ وارانہ تصادم نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی کارروائی ہے جو پولیس اور رینجرز کی توجہ ہٹا کر فرار ہونے کا محفوظ راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

ادھر ناظم آباد کے آئی بلاک میں منگل کی شب دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مراکش کے دو شہریوں کی نمازِ جنازہ جامع بنوریہ عالمیہ کی مرکزی مسجد میں ادا کر دی گئی، جس کے بعد ان کی امانتاً تدفین بھی احاطے میں واقع قبرستان میں کر دی گئی۔

جامعہ بنوریہ کے اعلامیے کے مطابق ہلاک ہونے والے عمر خطاب اور عبدالمجید کی عمریں بالترتیب چالیس اور پچپن سال کے درمیان تھیں اور وہ اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان میں تبلیغی دورے پر آئے ہوئے تھے۔ مقتولین کا آپس میں سسر اور داماد کارشتہ تھا۔

ادھر اسلام آباد میں مراکش کے سفارتخانے کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کراچی میں حکام سے رابطے میں ہیں اور شہریوں کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں