لاپتہ افراد : ’جمعے کو اچھی خبر دیں گے‘

Image caption سپریم کورٹ نے عدالت میں پیش ہونے تک آئی جی ایف سی کو کوئی رعایت دینے سے انکار کیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمے میں آئی جی فرنٹیئر کور میجر جنرل اعجاز شاہد کو توہینِ عدالت کے معاملے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے حکومت کو تیس لاپتہ افراد کو پیش کرنے کے لیے جمعرات کی شام چار بجے تک کی مہلت دی تھی تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے عدالت کو بتایا کہ جمعہ کو رجسٹرار کو اچھی خبر دیں گے۔

جس پر عدالت نے کہا کہ رجسٹرار کی بجائے عدالت کو اچھی خبر دی جائے اور جمعہ کو تیس لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت کل جمعہ تک ملتوی کر دی ہے۔

’جو بھی بازیاب ہو ایف سی کی گود سے نکلتا ہے‘

دریں اثناء وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’میں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیں جس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ لاپتہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’یہ تمام افراد چار پانچ سال سے صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر پھیلے ہوئے 43 سینٹروں میں رکھے گئے ہیں جو کہ صوبائی محکمۂ جیل خانہ جات کے زیرانتظام تھے۔ عسکری اداروں کے تعاون سے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ ان لاپتہ افراد کے بارے میں معلوم کیا جائے۔‘

اس سے پہلے ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی حاضر سروس جنرل کو توہینِ عدالت کا نوٹس دیا گیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اس معاملے کی سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل پاکستان عرفان قادر میجر جنرل اعجاز شاہد کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے لیکن عدالت نے یہ کہہ کر ان کا وکالت نامہ مسترد کر دیا کہ اس پر ان کے موکل کے دستخط نہیں ہیں۔

عرفان قادر نے عدالت سے استدعا کی کہ اس مقدمے کو کچھ عرصے کے لیے موخر کر دیا جائے اور توہینِ عدالت کا نوٹس جاری نہ کیا جائے لیکن عدالت نے اس موقف کو مسترد کر دیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک آئی جی ایف سی عدالت میں پیش نہیں ہوتے انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی ایف سی خود پیش ہوں اور عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے کی وضاحت کریں۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ سے کہا ہے کہ وہ توہین عدالت کے نوٹس پر عملدرآمد کرائیں۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالت میں پیش ہونے سے کسی ادارے کا حوصلہ پست نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ عدالت کو نیچا دکھانے کی روش برداشت نہیں کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے آئی جی فرنٹیئر کور کو متعدد بار عدالت میں حاضری کا حکم دیا تھا اور گذشتہ سماعت میں فرنٹیئر کور کے ترجمان نے عدالت کو بتایا تھا کہ آئی جی فرنٹیئر کور اس لیے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے کہ ایسا کرنے سے فوج کا حوصلہ پست ہوگا۔

Image caption بلوچستان کے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے حال ہی میں ان کی رہائی کے لیے کوئٹہ سے کراچی تک پیدل مارچ کیا

30 لاپتہ افراد کے معاملے میں سپریم کورٹ کو اٹارنی جنرل منیراے ملک نے بتایا کہ اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کہنے پر ہی دو دن دیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں وزیرِ دفاع کو اس لیے طلب کیا گیا تھا کہ وہ اس معاملے کو حل کر سکیں’لیکن اب ہمیں بادلِ ناخواستہ کسی بڑے کو بلانا پڑے گا۔‘

چیف جسٹس نے وزیرِ دفاع سے استفسار کیا کہ آیا عدالت کے متوازی بھی کوئی نظام چل رہا ہے جو احکامات پر عمل نہیں کر رہا۔

اس کے بعد عدالت نے حکومت کو ان افراد کو پیش کرنے کے لیے جمعرات کی شام چار بجے تک کی مہلت دے کر کارروائی ملتوی کر دی جسے بعد میں جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔

اسی بارے میں