پاکستان: 2013 میں پولیو کے مریضوں میں 24 فیصد اضافہ

 پولیو
Image caption ڈبلیو ایچ او کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ڈیڑھ سال سے پولیو سے بچاؤ کی مہم نھیں چلائی جا سکی

عالمی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سال دوہزار بارہ میں یہ تعداد 58 تھی جو اب بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔ دو روز کے دوران کراچی میں پولیو وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

ساٹھ ہزار والدین کا پولیو قطرے پلانے سے انکار

پاکستا ن میں پولیو وائرس کے خاتمے سے وابستہ ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈاکٹر زبیر مفتی نے نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا کہ ملک بھر میں کل تین کروڑ چالیس بچوں کو پولیو سے بچانے کے لیے ملک میں چار سے پانچ مہمات چلائی جاتی ہیں۔

ان کے بقول اس وائرس کے حوالے سے حساس سمجھے جانے والے علاقوں میں محدود پیمانے پر ان میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔

انسداد ِ پولیو میں رکاوٹیں

ڈبلیو ایچ او کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں جون 2012 یعنی تقریباً ڈیڑھ سال سے پولیو سے بچاؤ کی مہم نھیں چلائی جا سکی۔ تاہم زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے پشاور کے علاوہ کراچی میں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں کسی بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نھیں پلائے جا سکے۔

ڈاکٹر زبیر مفتی بتاتے ہیں کہ کراچی کی 28 یونین کونسلز ایسی ہیں جہاں پہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کسی بچے کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نھیں پلائی گئی،ان میں سے 21 یو نین کونسلز ایسی ہیں جو پولیو کے حوالے سے ’ہائی رسک ‘ یعنی زیادہ خطرناک قرار دی گئی ہیں۔

ڈاکٹر زبیر مفتی کا کہنا ہے ’ڈبلیو ایچ او کو مسلسل ایک سال سے کراچی کے گڈاپ ٹاؤن سے گندے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہورہی ہے اور اب حال ہی میں بلدیہ ٹاؤن اور گلشن اقبال ٹاؤن کے میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔‘

امن وامان کے علاوہ دوسرا بڑا مسئلہ پولیو کے قطروں کے بارے میں پھیلایا جانے والا تاثر ہے۔ اس ویکسین کو مذہبی طور پر غلط قرار دیا جاتا ہے یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف مغرب کی سازش ہے۔

ڈاکٹر زبیر مفتی کا کہنا ہے کہ صرف ایک فیصد بچوں کے والدین پولیو ویکسین پلوانے سے گریزاں نظر آئے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تناسب کم ہے لیکن شہری علاقوں پشاور، مردان اور لکی مروت میں والدین کی سب سے زیادہ تعداد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر آمادہ نظر نھیں آئی۔

انہوں نے بتایا ’36 گھنٹوں کے دوران کراچی میں دو پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، بلدیہ ٹاؤن کراچی میں چار ماہ کی بچی کو والدین نے کبھی پولیو کے قطرے پلائے ہی نھیں۔ ‘

دیگر ممالک تک پھیلاؤ

Image caption ہمسایہ ملک افغانستان میں پولیو کے کیسز میں 70 فیصد کمی دیکھنے کو ملی

پاکستان واحد ملک ہے جس میں اس سال نہ صرف سب سے زیادہ پولیو کیسز سامنے آئے بلکہ یہ وائرس پاکستان سے دیگر ممالک تک بھی پھیلا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں اس بار پولیو کے نصف سے بھی کم کیسز سامنے آئے جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں 70 فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔

ڈبلیوں ایچ او کے مطابق ’افغانستان میں جتنے بھی پولیو کیسز ہیں ان میں ملنے والا وائرس پاکستان سے منتقل ہوا۔ دسمبر سنہ 2012 میں پاکستان کا پولیو وائرس مصر میں سامنے آنے والے کیسز میں ملا، رواں سال یہی وائرس غزہ اور اسرائیل میں ملا ہے۔‘

یاد رہے کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سنہ 2012 سے لے کر اب تک پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری پروگرام سے وابستہ اور ان کی حفاظت پر مامور کل 25 افراد ہلاک حملوں میں ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان کو موصول ہونے والی یہ ویکیسن پاکستان پہنچنے کے بعد بھی جانچ اور تصدیق کے عمل سے گزرتی ہے۔ یہی ویکسین حجاج اکرام اور عمرہ زائرین کو جدہ ائیر پورٹ پر پلوائی جاتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے لیے پروگرام مرتب کرنے کے لیے آئندہ چار ماہ نہایت اہم ہیں کہ کیونکہ اس عرصے میں اس وائرس کی ترسیل اور منتقلی کا عمل نہایت سست ہوتا ہے ۔

نومبر سنہ 2013 میں چلائی جانے والی مہم کے مکمل نتائج ابھی سامنے نھیں آئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے سال دو ہزارچودہ تک ملک سے پولیو کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے۔لیکن صورتحال تسلی بخش اور حوصلہ افزا نظر نھیں آتی۔

اسی بارے میں