’ٹی وی چینل پر حملہ تنبیہی کارروائیوں کا حصہ‘

Image caption کراچی میں پیر کی شب حملہ آوروں نے دستی بم اور فائرنگ کر کے چینل کے ایک محافظ کو زخمی کر دیا تھا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے تین روز قبل کراچی میں ایک نجی نیوز ٹی وی چینل ایکسپریس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ان کی تنبیہی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

’دو دہائیوں میں 66 صحافی ہلاک‘

ای میل کے ذریعے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے نشر واشاعت کے ادارے ’عمر‘ کی جانب سے جاری ایک تفصیلی بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ دو دسمبر کی رات ایکسپریس نیوز کے دفتر اور اس سے قبل جیو نیوز پر دستی بموں سے حملے کیے گئے۔

بیان میں تنظیم نے میڈیا پر ہونے والے اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ادارے اور صحافی، صحافتی اقدار اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں۔

تحریک کا کہنا تھا کہ اگر صحافی اس سے باز نہ آئے تو آنے والے دن ان کے لیے ہولناک ہوں گے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستانی طالبان نے صحافیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہو۔ گذشتہ سال جون میں کراچی ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے دفتر پر مسلح حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

اس سے قبل نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے معروف اینکر حامد میر، دنیا نیوز کے رپورٹر عاطف خان اور ہنگو کے مصری خان پر حملوں کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی تھی۔

اکثر اوقات طالبان کسی بھی حملے کے فوراً بعد اس کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں لیکن اس مرتبہ دو روز بعد اس بیان کا سامنے آنا غیرمعمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان کے اس بیان پر حکومت یا نیوز چینل کی جانب سے کوئی ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

ماضی میں اس طرح کے حملوں پر پاکستانی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیمیں تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ پاکستان کا صحافیوں کے تحفظ کے اعتبار سے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

اسی بارے میں