ہیگل شریف ملاقات: ’باہمی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق‘

Image caption پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں

پاکستان اور امریکہ نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور خطے اور خصوصاً پاکستان کو مستحکم، محفوظ اور خوشحال بنانے کے لیے کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ اتفاقِ رائے پیر کو اسلام آباد میں امریکی وزیر دفاع چیک ہیگل اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات میں ہوا۔

’ڈرون حملے رکنے تک خیبر پختونخوا سے نیٹو رسد بند رہے گی‘

چک ہیگل پیر کی صبح افغانستان سے پاکستان پہنچے۔گذشتہ چار سالوں میں کسی امریکی وزیرِ دفاع کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امریکہ اور پاکستان کی سٹریٹیجک شراکت خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے اور حالیہ چند ماہ میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں قابلِ ذکر بہتری آئی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام شعبوں میں امریکہ کے ساتھ ایسے طویل المدتی اور وسیع تر مضبوط تعلقات چاہتا ہے جن کی بنیاد باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔

چک ہیگل اور نواز شریف نے آئندہ برس افغانستان سےغیرملکی افواج کے انخلا پر تبادلۂ خیال کیا۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرتا رہےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن، مستحکم اور متحد افغانستان پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔

Image caption جنرل راحیل شریف سے کسی اعلیٰ امریکی عہدےدار کی یہ پہلی ملاقات تھی

نواز شریف نے امریکی وزیر دفاع سے ملاقات میں پاکستان میں ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ ان حملوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے وزیراعظمِ پاکستان کے علاوہ ملک کے نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی جس میں خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال، پاک امریکہ عسکری روابط اور پاک افغان سرحدی تعاون پر بات چیت ہوئی۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل راحیل شریف سے کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کی یہ پہلی ملاقات تھی۔

چک ہیگل کا دورۂ پاکستان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کی باعث دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ نے پاکستان میں ان حملوں کے خلاف احتجاج کے باعث چار دسمبر کو طورخم کے راستے افغانستان سے سامان کی ترسیل کا عمل معطل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ رسد لانے اور لے جانے والے ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ایسا کیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا نیٹو اور امریکی افواج کے لیے سامان لے جانے والے ٹینکروں کے خلاف دھرنا ابھی جاری ہے۔

اسی بارے میں