’نہ امریکہ مخالف ہوں اور نہ ہی بھارت مخالف‘

Image caption عمران خان بھارت میں اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرس میں شرکت کے بعد لاہور واپس پہنچے تھے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ نہ بھارت مخالف ہیں اور نہ ہی امریکہ مخالف بلکہ انہیں ان ممالک کی بعض پالیسیوں سے اختلاف ہے۔

بھارت میں اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرس میں شرکت کے بعد واپسی پر لاہور کے بین القوامی ہوائی اڈے پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی ملک ک مخالف نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ کسی ملک کا مخالف ہونا ایک چھوٹے ذہن کی سوچ ہوتی ہے، میں ملکوں کی پالیسیوں کے خلاف ہوں، امریکہ کے خلاف نہیں ہوں لیکن اس کی ڈرون حملوں کی پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے خلاف ہوں، امریکہ مخالف نہیں ہوں۔ میں ہندوستان کی کشمیر پالیسی جدھر سات لاکھ فوج انہوں نے بھیجی ہوئی ہے میں اس کے خلاف ہوں۔ بھارت مخالف نہیں ہوں۔‘

بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنی چاہیے لیکن اس میں کشمیر ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کے علاوہ تعلقات آگے نہیں جا سکتے ہیں۔‘

عمران خان کے بقول’ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے جائیں گے، کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، سابق دورہ حکومت میں جب شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے تو اس وقت بات چیت آگے بڑھ چکی تھی لیکن ممبئی حملوں کی وجہ سے پیچھے چلی گئی لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے ۔‘

بھارت کی جانب سے پاکستان پر شدت پسندی کے الزامات پر عمران خان نے کہا کہ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے، ابھی تک ان کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات مکمل نہیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس پر میں نے کہا کہ پاکستان میں یہ ہی خدشات ہیں کہ بھارت صوبہ بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور حکومت کہتی ہے کہ طالبان گروپس کی بھی حمایت کر رہا ہے، اس میں ایک دوسرے سے سچ بولنے اور اعتماد کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

عمران خان کے ساتھ موجود شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارت کے دورے کے دوران دہلی میں کانگریس پارٹی کی اعلیٰ قیادت سونیا گاندھی، راہل گاندھی سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات ہوئی اور اس کے علاوہ عمران خان کو بھارت کے اعلیٰ کاروباری طبقے نے’ لیڈر شپ فار چینج یا تبدیلی کے لیے قیادت کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرس میں بلایا تھا۔‘

اسی بارے میں