سندھ بھر میں سندھی یومِ ثقافت منایا گیا

Image caption سندھی ثقافت دن کا آغاز 2009 میں کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ میں اتوار کو سندھی ثقافت کا دن منایا گیا اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں لوگوں نے روایتی لباس پہن کر ریلیوں اور جلوسوں میں شرکت کی۔

سندھ کے تقریباً تمام شہروں اور قصبوں میں تقافتی دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی گئیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اتوار کا دن ہونے کے باوجود سرکاری اور نجی سکولوں میں تقریبات منعقد کی گئیں اور سندھی ثقافت کو اجاگر کیا گیا، بعض جیلوں میں قیدیوں نے گذشتہ شب چراغ جلا کر یکجہتی کا اظہار کیا۔

صوفی شعرا کی دھرتی سمجھی جانے والی سرزمین سندھ میں کچھ عرصے سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرف مذہبی انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے اپنے قدم جمانا شروع کیے ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ثقافتی رنگوں اور یکجہتی کے اظہار سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

سندھ کے سابق سیکریٹری ثقافت، استاد اور مصنف گل محمد عمرانی کا کہنا ہے کہ سندھی قوم ثقافتی طور پر منظم ہے۔ یہ ان کے شعور کا مظہر ہے، اس روایت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ دنیا ہماری ثقافت کو دیکھ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہماری ثقافت قدیم بھی ہے اور جدید بھی۔‘

کراچی میں امریکی کونسل خانے میں بھی سندھ کا ثقافتی دن منایا گیا اور اس حوالے سے خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں امریکہ کی ایک قوال پارٹی نے صوفیانہ کلام سنائے۔

اس تقریب میں کونسل جنرل مائیکل ڈاڈمین اور ان کی اہلیہ نے روایتی سندھی لباس پہن رکھا تھا۔

کونسل جنرل مائیکل ڈاڈمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ’سندھی ثقافت کا دن پورے پاکستان میں مناناچاہیے، کیونکہ سندھی کی تاریخ اور ثقافت بڑی شاندار ہے جو پاکستان کی وسیع ثقافت کا حصہ ہے اس شناخت پر پورے پاکستان کو فخر کرنا چاہیے۔‘

سندھی نیوز چینلز کی خبروں میں بھی اس دن نے خاصی اہمیت حاصل کی ہے۔

نامور سندھی شاعر شیخ ایاز کے فرزند اور استاد مونس ایاز کہتے ہیں کہ ’ثقافتی دن منانے سے سندھ کے لوگوں میں کافی سیاسی شعور آیا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ وہ کئی حقوق سے محروم ہیں۔ ثقافتی دن پر سندھ اور سندھی عوام سے چھینے گئے حقوق منظر عام پر آتے ہیں۔‘

Image caption کراچی میں امریکی کونسل خانے میں بھی سندھ کا ثقافتی دن منایا گیا

سوشل میڈیا پر بھی سندھی ثقافت کی اہمیت اس کی تاریخ پر بحث و مباحثہ جاری ہے، جس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد لوگوں کو سندھی ثقافت اور تاریخ کے پہلوؤں سے روشناس کراتی ہوئی نظر آتی ہے۔

سندھی ثقافت دن کا آغاز 2009 میں اس وقت کیا گیا تھا جب ایک ٹی وی اینکر شاہد مسعود نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو سندھی ٹوپی پہننے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس پر سندھ میں شدید ردعمل سامنے آیا اور سندھی میڈیا کے سب سے بڑے گروپ کے ٹی این اور کاوش نے سندھی ثقافت کا دن منانے کا اعلان کیا۔

سندھ کی تمام سیاسی اور سماجی تنظیموں نے اس کی حمایت کی اور نتیجے میں لاکھوں لوگ پر امن طریقے سے سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے اپنی ثقافت کا دفاع کیا۔

شروع میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی صوبائی حکومت نے بھی سندھی ثقافت کا دن منانے کی حمایت اور شرکت کی لیکن وقت گذرنے کے ساتھ فاصلہ اختیار کر لیا۔

اسی بارے میں