جنرل شریف لائن آف کنٹرول پر اگلے مورچوں کا دورہ

Image caption برّی فوج کے سبکدوش ہونے والے سربراہ جنرل کیانی نے 29 نومبر کو باضابطہ طور پر فوج کی کمان نئے سربراہ راحیل شریف کے سپرد کی تھی

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا ہے۔

جنرل شریف نے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد کنٹرول لائن کے اپنے پہلے دورے میں اگلے مورچوں اور کئی چوکیوں کا دورہ کیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جنرل شریف نے دورے کے دوران لائن آف کنٹرول پر تعینات جوانوں کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کے تعریف کی۔

جنرل راحیل شریف سے امیدیں اور توقعات

’پاک بھارت دوستی اور امن کا خواب‘

اس کے علاوہ جنرل شریف نے لائن آف کنٹرول پر ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے والے افسروں اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس سے پہلے جنرل شریف نے برّی فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے دورے کے لیے قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان کا انتخاب کیا تھا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رواں سال جنوری میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول یعنی ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بعد میں جموں سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر بھی دو طرف فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

کئی دنوں تک جاری رہنے والی دو طرفہ فائرنگ کے بعد دونوں ممالک کے سرحدی محافظوں کے درمیان ملاقات میں جنگ بندی کے معاہدے کو بحال رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے ستمبر میں دونوں ملکوں کے وزرا اعظم نے نیویارک میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ باہمی مذاکرات میں پیش رفت کے لیے لائن آف کنٹرول پر امن کی بحالی ضروری ہے جس کا طریقہ کار دونوں فوجوں کے ڈی جی ایم او وضع کریں گے۔ یہ ملاقات نہیں ہو سکی اور اس دوران لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر پھر اضافہ ہوا۔

گذشتہ ماہ تیرہ نومبر کووزیر اعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں فوجوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) ’دو تین ہفتوں کے اندر’ ملاقات کریں گے۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ ملاقات کب ہو گی۔

اسی بارے میں