’جلد اور سستے انصاف کا خواب ادھورا رہ گیا‘

Image caption جسٹس افتخار محمد چوہدری پر وکلا کو خود سے قریب کرنے کا الزام ہے

پاکستان میں فوری اور سستا انصاف عوام کےلیے ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کی تحریک میں جہاں ایک طرف وکلا برادری سرگرم نظر آئی وہیں عام لوگوں نے بھی اس میں بھرپور دلچسپی لی۔

ججوں کی بحالی میں عوامی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ سستے انصاف کے حصول کا خواب تھا۔

سستا یا مہنگا انصاف

سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والی عدلیہ بحالی کی تحریک 16 مارچ سنہ 2009 کو چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کی بحالی کی صورت میں اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔

اس وقت عوام کا مرکزِ نگاہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تھے جو اب ریٹائر ہو رہے ہیں۔ وکلا کی کامیاب کے نتیجے میں عدلیہ تو آزاد ہوئی لیکن عام لوگوں کے مسائل شاید پہلے سے بھی بڑھ گئے ہیں۔

لوگوں کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کی حقیقت جاننے کے لیے جب سپریم کورٹ کا رخ کیا تو وہاں ایک سائل محمد شریف کیانی سے ملاقات ہوئی۔

ذیلی عدالتوں میں وکلا کی بھاری فیسیں ادا کرتے کرتے تھک جانے کے بعد وہ سپریم کورٹ کے دروازے پر تھے لیکن انصاف کے لیے چیف جسٹس کو لکھی گئی درخواست کی شنوائی نہ ہو سکی۔

وہ کہتے ہیں: ’ضلعی عدالت میں بیٹی کے حق میں ڈگری ہوئی تو مخالف پارٹی دوسری عدالت میں چلی گئی اور اب اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے وکیل کو پچاس ہزار روپے کی فیس دی اور پھر دوسرے کو مالی حالات خراب ہونے کے باوجود ایک لاکھ روپے دیے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اب ایک ماہ سے زیاہ عرصہ ہوگیا ہے چیف جسٹس صاحب کو درخواست دی ہے، آج کوئی امید تھی کہ کچھ ہو جائے گا لیکن وہ بڑے کیس میں مصروف تھے۔‘

جب ان سے پوچھا کہ چیف جسٹس تو کل ریٹائرڈ ہو رہے ہیں تو شریف کیانی نے کہا کہ ’ان سے بہت امیدیں تھیں لیکن اب کیا ہو سکتا ہے۔‘

سپریم کورٹ کے باہر ہی سید محمد اقتدار حیدر سے ملاقات ہوئی جو سنہ 1997 سے عدالتوں میں اپنے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا کہ کسی وکیل کی خدمات کیوں حاصل نہیں کیں تو ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی درخواست دائر کرنا سیکھ لیا۔

’ اگر کسی وکیل کی خدمت حاصل کی ہوتی تو آج میں یہاں نظر نہیں آتا کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اور نہ ہی میں وکلا کی فیسیں برداشت کر سکتا تھا۔‘

’انصاف سب کے لیے‘ وکلا کی رائے

Image caption علی احمد کرد انصاف کی موجودہ صورتحال سے مایوس ہیں

کیا واقعی اعلیٰ عدلیہ کی بحالی کے بعد فوری اور سستے انصاف کا خواب پورا نہیں ہو سکا اور انصاف کا حصول مزید مہنگا ہو گیا ہے؟

اس پر وکلاء تحریک میں’ انصاف سب کے لیے‘ کے نعرے لگانے والے جوشیلے وکیل رہنما علی احمد کرد سے بات کی تو انہوں نے دلبراشتہ ہو کر کہا کہ اس پر بات کرنے کا دل نہیں کرتا ہے۔

’بس کیا کہوں ایک آدمی کو قدرت نے اتنا بڑا موقع دیا لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا اور ایک عام اور غریب آدمی کا حال ویسے کا ویسے ہی ہے۔‘

اس پر مزید بات کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ چیف جسٹس کے دور میں انصاف بالکل مہنگا ہوا۔

’کچھ لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ چونکہ تحریک انہوں چلائی تھی اس لیے اس کی اونرشپ کے حق دار بھی وہی ہیں اور یہ تاثر دینا شروع کر دیا۔ جبکہ موکل کو اس بات سے مقصد ہوتا ہے کہ اس کو ریلیف ملے چاہے اس کا حق بنتا ہے یا نہیں۔‘

جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے مطابق وکلا کی فیسیوں میں اضافے کے علاوہ انصاف کے مہنگے ہونے کی ایک وجہ سپریم کورٹ میں عام مقدموں کے علاوہ ازخود نوٹس کے مقدموں کی سماعت ہے۔

’ ان کیسز کو زیادہ وقت دیا جاتا تھا اور اسی وجہ سے دیگر مقدمات کو وقت نہیں مل پاتا تھا جس کی وجہ سے دیگر شہروں سے آنا جانا اور اسلام آباد میں رکنا موکل کو ہی برداشت کرنا پڑا تھا۔‘

چیف جسٹس کا کردار

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وکلا کے معاوضے میں اضافے اور ان سے قربت کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کیے؟

اس پر جسٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس کو اس طرح کے وکلا کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہیے تھی۔’لیکن ہمارے سامنے تھا کہ انھوں نے ضلعی بار ایسویشی ایشنز کے دورے کیے اور انتخابات کے بعد ان سے جا کر حلف لیا اور چیف تیرے جانثار کے نعرے بلند ہونا شروع ہوئے۔‘

نچلی سطح پر سستے انصاف کی فراہمی سے متعلق جسٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ ’افتخار چوہدری ملکی تاریخ کے انتہائی طاقتور چیف جسٹس تھے۔’اگر وہ اپنے ادارے کی جانب زیادہ توجہ دیتے تو آج فخر سے یہ بات کہی جا سکتی تھی کہ انتظامیہ اور مقننہ کے برعکس عدلیہ نے اپنا کام کیا۔ آج اگر پارلیمان اور انتظامیہ پر بات ہوتی ہے تو عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں