ازخود نوٹس: ’اختیارات کی حدود پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت‘

Image caption عدالت سمیت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائص انجام دیں: جسٹس تصدق

پاکستان کے نامزد چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ غیر اہم معاملات پر دائر کی جانے والی درخواستوں اور اختیارات کو ذاتی مفاد میں استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سپریم کورٹ کو ملنے والے اختیارات کی حدود پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ کو آئین کی اس شق کے تحت کسی بھی واقعے یا اہم معاملے پر ازخود نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہے۔

جسٹس افتخار کے ہنگامہ خیز دور کا اختتام

اربوں کی بدعنوانی سے شراب کی دو بوتلوں تک

پاکستان کے کس چیف جسٹس سے امیدیں پوری ہوئیں؟

’سستے انصاف کا خواب ادھورا رہ گیا‘

وکلا افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ پر خوش

بدھ کو ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں منعقد ہونے والے فُل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ اچھی حکمرانی قانون کے نفاذ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت سمیت ریاست کے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائص انجام دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی ذیلی شق 3 اور 187 کے تحت عدالت عظمیٰ کو دیے گئے اختیارات کے تحت قانون اور سماجی حرکیات میں موجود فرق کم کرنے کے لیے استدعا کی جا سکتی ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے عدالت کو ریاست کے تینوں ستونوں کی آئینی حیثیت کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ خاص طور پر آئین کی شق 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کے حصول کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس اور متعدد ماہرینِ قانون نے ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے آئین کی اس شق کے تحت مختلف معاملات میں ازخود نوٹس لینے پر تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان معاملات میں بعض اوقات شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

جسٹس تصدق حیسن جیلانی نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ اُن کے دور میں قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری پر کافی زور دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ آنے والا عدالتی نظام اُن کی صلاحیتوں سے مزید سیکھے گا۔

ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی تقریر میں کہا کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہے اور بنیادی انسانی حقوق کا وجود خطرے میں ہو تو پھر یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئے اور اس پر عمل درآمد کروائے۔

انھوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لیتے رہنا چاہیے۔

Image caption قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے: چیف جسٹس افتخار چوہدری

انھوں نے کہا کہ عدلیہ نے فوج کی سیاست میں مداخلت کو روکنے کے لیے فیصلہ دیا اور اب کوئی بھی آمر جمہوریت پر شب خون نہیں مار سکے گا۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پارلیمنٹ کے کردار کو بھی سراہا جنھوں نے تین نومبر 2007 کے اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی۔

افتخار محمد چوہدری نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ملک کے نئے چیف جسٹس آئین اور قانون کی حکمرانی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔ حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر میں منعقد کی جائے گی۔

صدر ممنون حسین اُن سے حلف لیں گے۔ تصدق حسین جیلانی سات ماہ تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہیں گے اور اُن کے بعد جسٹس ناصرالملک پاکستان کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔

اسی بارے میں