نئے چیف جسٹس تصدق جیلانی بیشتر اہم مقدمات کا حصہ رہے

چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی
Image caption چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ حلیم طبع ہیں

پاکستان کے نئے چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی چھ جولائی 1949 کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے ایف سی کالج سے ایم اے سیاسیات کیا اور اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

اُنھوں نے 1974 میں جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے بطور وکیل اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔ وہ 1979 میں سابق فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تعینات ہوئے۔

1988 میں وہ پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیے گئے۔ اُنھیں 1993 میں ترقی دے کر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔

دھیمے مزاج والے تصدق حسین جیلانی کو سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں سات اگست 1994 میں لاہور ہائی کورٹ کا جج اور تقریباً دس سال کے بعد جولائی 2004 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔

پاکستان کے نئے چیف جسٹس بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اُن دیگر ججوں میں شامل تھے جنھوں نے اکتوبر سنہ 1999 میں اُس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی سربراہی میں قائم ہونے والے اُس بینچ کا حصہ تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت کی تھی۔

اس ریفرنس کا فیصلہ افتخار محمد چوہدری کے حق میں دیا گیا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر بحال ہوگئے تھے۔ اس ریفرنس میں چوہدری اعتزاز احسن افتخار محمد چوہدری کے وکیل تھے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی اُس سات رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے تین نومبر 2007 میں سابق فوجی صدر کی طرف سے ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے موقع پر حکم جاری کیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی بھی جج پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھائے اور بیوروکریسی فوجی آمر کا کوئی حکم نہ مانے۔

نئے چیف جسٹس اُس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے 31 جولائی سنہ 2009 میں تین نومبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی اُن ججوں میں شامل تھے جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں کو بھیج دیا تھا تاہم وہ مارچ 2009 میں عدلیہ کی بحالی کے لیے شروع کیے جانے والے لانگ مارچ کی وجہ سے چیف جسٹس سمیت بحال ہونے والے دیگر ججوں میں شامل نہیں تھے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی اور سپریم کورٹ کے دوسرے سنیئر جج جسٹس ناصر الملک کو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور ہی میں دوبارہ حلف لینے کے بعد اُن کے عہدوں پر بحال کردیا گیا تھا۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی اُس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور میں پاکستان سٹیل ملز کی نج کاری کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور یہی فیصلہ اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کے درمیان اختلافات کا باعث بنا۔

تصدق حسین جیلانی نے اُس پانچ رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی تھی جس نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی حکومت کو بحال کیا تھا۔ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج موسی کے لغاری نے میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے پنجاب میں گورنر راج لگا کر حکومت ختم کردی تھی اور اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر کو تمام انتظامی اختیارات سونپ دیے گئے تھے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے مختلف معاملات پر لیے جانے والے از خودنوٹسوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ نہیں رہے ہیں۔

وہ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بینچ میں بھی شامل نہیں تھے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ کے قریبی رشتہ دار ہیں اس کے علاوہ سابق سیکرٹری دفاع سلیم عباس جیلانی اور قومی اسمبلی میں ایڈیشنل سیکرٹری شاہد عباس جیلانی اُن کے بھائی ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے نامزد سفیر جلیل عباس جیلانی نئے چیف جسٹس کے بھانجے ہیں۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی دھیمے مزاج کے جج ہونے کے ساتھ ساتھ مقدمات کو زیادہ طوالت نہیں دیتے اور فوری مقدمات کو نمٹا دیتے ہیں۔ اُن کی اس صلاحیت کی وجہ سے سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے میڈیا کے ارکان کو اب شاید رات گئے تک سپریم کورٹ میں نہ بیٹھنا پڑے، جس طرح وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں مقدمات کی کوریج کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ’انصاف سب کے لیے‘ ایک نظم بھی لکھی ہے جو سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کے ساتھ آویزاں کی گئی ہے۔

اسی بارے میں