مشرف پر’غداری‘ کا مقدمہ چلانے کی درخواست

Image caption سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک کے سابق فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت کے آغاز کے لیے خصوصی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ درخواست سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے جمعرات کو خصوصی عدالت کے رجسٹرار کے پاس جمع کروائی۔

’مشرف کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں‘

’جنرل مشرف کا اصل جرم 1999 کی بغاوت تھی‘

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق درخواست میں پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

حکومتِ پاکستان نے گذشتہ ماہ سابق فوجی صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت تشکیل دی تھی جس کے بقیہ دو ارکان جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر ہیں۔

یہ خصوصی عدالت مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرے گی۔

Image caption پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمرقید ہے

وفاقی حکومت نے اس مقدمے کے لیے قانونی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جس کی سربراہی بیرسٹر اکرم شیخ کو سونپی گئی ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک کہہ چکے ہیں کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں حکومت کے پاس اتنے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اُنھیں اس مقدمے میں سزا ہوسکتی ہے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُنھیں اُمید ہے کہ اس کیس کے فیصلے میں زیادہ وقت درکار نہیں کیونکہ اس مقدمے میں زیادہ تر شہادتیں پہلے ہی ریکارڈ پر ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ اُن کے اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔

پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمرقید ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالت کی صوبداید ہے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں وہ پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں گے۔

خیال رہے کہ تین نومبر 2007 کو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس کے بعد گذشتہ روز ریٹائر ہونے والے ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں