پشاور:جرائم کی بیخ کنی کے لیے پولیس سکواڈ کا قیام

Image caption پولیس کے گشت میں اضافے کے علاوہ علیحدہ کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے پولیس سکواڈ کے قیام کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وسائل اور پولیس کی نفری بڑھائے بغیر اس طرح کے منصوبوں پر عمل درآمد مشکل نظر آتا ہے۔

جمعرات کو پشاور میں صوبائی سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

محکمۂ داخلہ کے اجلاس میں شرکاء نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان وارداتوں میں افغان اور قبائلی علاقوں سے آنے والے افراد ملوث ہیں جو کارروائی کرنے کے بعد حیات آباد سے دیوار کو پھلانگ کر یا اسے توڑ کر قبائلی علاقوں میں چلے جاتے ہیں جہاں پولیس کی عمل داری نہیں ہے۔

محکمۂ داخلہ نے پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد میں پولیس کی ایلیٹ فورس پر مشتمل ایک سکواڈ تشکیل دینے کا منصوبہ تیار کیا کیا ہے جو خیبر ایجنسی سے متصل علاقے میں تعینات رہیں گے۔

پولیس کے گشت میں اضافے کے علاوہ علیحدہ کنٹرول روم بھی قائم کیا جائے گا اور ان کے ساتھ خاصہ دار بھی تعینات ہوں گے۔

خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے پولیٹکل انتظامیہ کا کنٹرول بھی نہیں ہے اور حیات آباد اور قبائلی علاقے کے درمیان ایک دیوار ہے جسے اکثر گزر گاہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے توڑ دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ پشاور میں چند ماہ کے دوران درجنوں افراد کو اغوا کیا گیا ہے۔ اس وقت بھی دو ڈاکٹر اغوا ہیں جنھیں اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔

دو ہفتے قبل ایک ڈاکٹر تاوان ادا کرنے کے بعد گھر پہنچے تھے اور اغوا کے واقعات کے خلاف صوبے میں ڈاکٹر ان دنوں احتجاج بھی کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے میں بھتہ خوری کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور آئے روز تاجروں اور دیگر مالی طور پر مستحکم افراد کو دھمکی آمیز خطوط اور ٹیلی فون کالز موصول ہوتے رہتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمۂ داخلے کے منصوبے وسائل کے بغیر قابل عمل نظر نہیں آتے کیونکہ اکثر تھانوں میں پولیس کی نفری انتہائی کم ہے۔

حیات آباد کے تاتارا پولیس سٹیشن میں معمول کی کارروائی اور گشت کے لیے 50 اہلکاروں کی ضرورت ہے جب کہ اس وقت تھانے میں 20 سے 25 اہلکار موجود ہیں۔

ایسے حالات میں اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور آپریشن کرنے کے لیے اضافی نفری کی ضرورت ہے جس کے لیے وسائل درکار ہیں۔

قبائلی اور شہری علاقوں میں الگ الگ قانون کی وجہ سے پولیس کی عملداری محدود ہے جبکہ سرحد پر تعینات فرنٹیئر کور کے اہلکار ان کارروائیوں کی روک تھام میں ناکام نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں