’ملا کو پاکستان سے وفاداری پر پھانسی دی گئی‘

Image caption بنگلہ دیش مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بنگلہ دیش میں 1971 میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کو انتہائی افسوسناک اور المناک اقدام قرار دیا ہے۔

65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دی گئی تھی۔ ان کی پھانسی کے خلاف پاکستان میں بھی جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

بنگلہ دیش میں مظاہرے

پاکستان بنگلہ دیش سے معافی مانگے یا نہیں

شکست کی دستاویز کا متن

وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سال 1971 کے واقعات کو 42 سال گزرنے کے باوجود عبدالقدار ملا کو پھانسی دینا انتہائی افسوسناک اور المناک اقدام ہے اور بعض حلقے اسے عدالتی قتل قرار دے رہے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق چوہدری نثار نے جماعت اسلامی کے رہنما کو پھانسی دینے پر تاسف اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو پھانسی 1971ء میں ان کی پاکستان سے وفاداری اور یکجہتی نبھانے کے باعث دی گئی۔‘

’وہ بنگلہ دیش بننے سے پہلے آخری دم تک متحدہ پاکستان کے داعی رہے، آج ہر پاکستانی کو ان کی رحلت پر دکھ اور افسوس ہے۔‘

وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بقول بین الاقوامی تعلقات، امت مسلمہ کی یکجہتی اور دانش مندی اس امر کا تقاضا کرتے تھے کہ ماضی کے حالات و واقعات کو پس پشت ڈال کر ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے لیکن اس انتہائی افسوسناک واقعہ سے ماضی کے پرانے زخموں کو پھر سے ہرا کرنے کی کوشش کی گئی۔

بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران 30 لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

بنگلہ دیش علیٰحدگی کے دوران سنہ 1971 کے واقعات میں پاکستانی فوج پر مبینہ زیادتیوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے۔ تاہم اب تک پاکستان سرکاری سطح پر معافی مانگنے سے گریز کر رہا ہے

اسی بارے میں