بلوچستان:بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں کی کامیابی

Image caption بلوچ اکثریتی علاقوں یا تو بلامقابلہ انتخاب ہوا یا نشستیں خالی رہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سات دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات اگرچہ جماعتی بنیادوں پر ہوئے لیکن ان میں آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہے۔

سیاسی جماعتوں میں انفرادی طور پر حز ب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) نے مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی۔

بلوچستان کے ہرنائی ضلعے میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔

سینیچر کو کوئٹہ میں الیکشن کمشنر بلوچستان سید سلطان بایزید نے صوبے کے32 اضلاع میں سے31 میں ان 6166 نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا جن پر انتخابات ہوئے یا امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر ووٹ ڈالنے کی شرح 42 فیصد رہی تاہم متعدد بلوچ آبادی والے علاقوں میں یہ شرح 25 سے 30 فیصد تک رہی۔

ان انتخابات میں مجموعی طور پر2675 امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے تھے جبکہ 508 نشستیں خالی رہ گئی تھیں۔

بلامقابلہ کامیاب ہونے والے امیدواروں اور خالی نشستوں میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچ آبادی والے علاقوں سے تھا۔

بعض سیاسی مبصرین کی یہ رائے ہے بلوچستان کی بلوچ آبادی والے علاقوں میں امن وامان کی خراب صورتحال اور بعض عسکریت پسند تنظیموں کی دھمکیو ں کی وجہ سے مقابلے کا رحجان کم رہا جس کے باعث بڑی تعداد میں امیدوار نہ صرف بلا مقابلہ کامیاب ہوئے بلکہ بڑی تعداد میں نشستیں بھی خالی رہیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر کے مطابق جن 6166 نشتوں پر انتخاب ہوا ان میں سے 2675 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ سیاسی جماعتوں میں حزب اختلاف کی جماعت جے یو آئی (ایف) 954 نشستیں لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

مخلوط صوبائی حکومت میں شامل پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی 765 نشستوں کے ساتھ دوسری، بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی 562 نشستوں کے ساتھ تیسری جبکہ مسلم لیگ (ن) 472 نشستوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر ہے۔

حکومت میں شامل چوتھی جماعت مسلم لیگ (ق) کو 68 نشستیں ملیں۔

حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں میں سے جمعیت العلماء اسلام (نظریاتی ) گروپ کو227، بلوچستان نیشنل پارٹی کو 198 ، عوامی نیشنل پارٹی کو 62 اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کو 54 نشستیں ملیں۔

بلوچستان سے جن جماعتوں کو کسی انتخاب میں پہلی مرتبہ کامیابی ملی ہے ا ن میں تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ شامل ہیں ان جماعتوں کو بالترتیب 22 اور 4 نشستیں ملی ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی کو 9 نشستیں ملیں۔

سن 2008 میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنی تھی لیکن رواں سال ہونے والے عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بھی اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور اسے مجموعی طور پر صرف 39نشستیں ملیں۔

اسی بارے میں