’طالبان رہنما عدنان عرف ابو حمزہ کراچی سے گرفتار‘

Image caption سی آئی ڈی پولیس کے شعبہ انٹیروگیشن کے سربراہ مظہر مشوانی کا دعوی ہے کہ یہ ملزم پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کے لئے کام کر رہا تھا اور مطلوب ملزمان کی جاری شدہ فہرست یعنی ریڈ بک میں اسکا نمبر چھتیسواں ہے

پاکستان کے شہر کراچی میں سنیچر کے روز سی آئی ڈی پولیس نے ویسٹ وہارف کے علاقے میں چھاپہ مار کر ایک مطلوب ملزم محمد عدنان عرف ابو حمزہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

سی آئی ڈی پولیس کے شعبۂ تفتیش کے سربراہ مظہر مشوانی کا دعوی ہے کہ یہ ملزم پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے کام کر رہا تھا اور مطلوب ملزمان کی جاری شدہ فہرست یعنی ریڈ بک میں اس کا نمبر 36 واں ہے۔ سی آئی ڈی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے قبضے سے دو دستی بم ، پستولیں اور گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔

سی آئی ڈی کے شعبۂ تفتیش کے اہلکار چوہدری محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس سے قبل سن دو ہزار سات میں بھی ابو حمزہ کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اُن پر مقدمہ چل رہا تھا تاہم وہ لاہور چلا گیا اور محکمۂ اوقاف میں بھرتی ہوگیا۔ کچھ عرصہ لاہور میں کام کرنے کے بعداُس نے اپنا تبادلہ کراچی کرا لیا اور یہاں آکر اُس نے عدالت کے ذریعے اپنے اوپر قائم مقدمہ ختم کرایا۔‘

چوہدری محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد عدنان عرف ابو حمزہ فی الحال کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے کام کر رہا تھا لیکن اِس سے قبل وہ القائدہ کے تخصیر ی گروپ کا بھی رُکن رہ چکا ہے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم ابو حمزہ کراچی کے علاقے باتھ آئی لینڈ میں واقع کور کمانڈر کے گھر، سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی صاحبزادی کے گھر اور انٹیلیجنس بیورو کے دفاتر کی نگرانی کرتا رہا ہے تاکہ اِن جگہوں پر کارروائی کی جا سکے۔

مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے ملزم ابو حمزہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران دو پولیس اہلکاروں کے قتل اور صفورا چورنگی کے قریب رینجرز اہلکاروں کی موبائل پر دستی بموں سے حملے میں ملوث رہاہے ۔ اِس واقعے میں دو رینجرز اہلکار مارے گئے تھے۔

سی آئی ڈی پولیس نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے ابو حمزہ کا اکیس دسمبر تک جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

اسی بارے میں