’سیاسی و مذہبی کارکن پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں‘

Image caption پولیس نے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کی فہرست تیار کرلی ہے: شاہد حیات خان

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے پولیس کے سربراہ ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل شاہد حیات خان کا کہنا ہے کہ شہر میں سیاسی اور مذہبی تشدد بڑھ رہا ہے اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ارکان شہر میں مختلف مقامات پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

شاہد حیات خان نے یہ بات بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔انھوں نے کہا کہ پولیس نے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کی فہرست تیار کرلی ہے تاکے اُن کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

اُن کا کا کہنا تھا کہ ’شہر میں موجود ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردی کی دیگر وارداتوں میں ملوث مطلوب ملزمان کی فہرست متعلقہ ایجنسیوں کو فراہم کی جا رہی ہے اور بعد میں حکومت کو بھی فراہم کی جائے گی۔‘

کراچی پولیس کے سربراہ نے مزید کہا کہ’حُکومت سے درخواست کی جائے گی کہ اِن افراد کی گرفتاری پر انعام کی رقم کا اعلان کیا جائے اور سیاسی جماعتوں سے اِن ملزمان کی حوالگی کے لیے بات کی جائے۔‘

انھوں نے فہرست میں موجود کسی مطلوب ملزم کانام نہیں لیا اور کہا کہ جب فہرست حُکومت کو فراہم کی جائے گی تو سب نام سامنے آجائیں گے۔

کراچی میں امن کے قیام کے لیے جاری ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ اُن کو سیا سی دباؤ کا سامنا نہیں ہے اور نہ ہی فہرستیں بنانے کے بعد سیاسی دباؤ ڈالا گیا۔

شاہد حیات نے کہا ’ہم تمام علاقوں میں جا رہے ہیں اور کارروائیاں کر رہے ہیں، ابھی تک تو کسی نے سیاسی دباؤ نہیں ڈالا۔‘

انھوں نے کہا کہ وفاقی حُکومت نےگواہان اور عینی شاہدین کے تحفظ سے متعلق جو قوانین وضع کیے ہیں اگر پولیس اُن پر صحیح انداز میں عمل درآمد کرے تو گرفتار ملزمان کا چھوٹ جانا مشکل ہوجائے گا اور اِن قوانین سے بڑی مدد مل رہی ہے۔

اُنہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’انشاءاللہ عنقریب جن کیسز کا ہم انتخاب کریں گے اُن میں ملزمان کو سزائیں دلوائیں گے اور ایسے مقدمات کو مثال بنائیں گے۔‘

ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا تھا کہ پیسہ مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کی ضرورت ہے اور شہر میں سیاسی و مذہبی عسکریت پسندی بڑھنے کی وجہ یہ بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی شہر تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور یہاں پیسہ جمع کرنا آسان ہے لہٰذا ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہاں اپنا کنٹرول قائم کر لے۔اِ

کراچی میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد امام حسین کے چہلم کے موقع پر بڑا جلوس نکالتے ہیں۔ اِس جلوس کی سکیورٹی اور راولپنڈی کے فرقہ وارانہ فسادات کے تناظرمیں انتظامات پر شاہد حیات خان نے کہا کہ اِس موقع پر حالات خراب کرنے کی اطلاعات اورامکانات تو ہیں:

’ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے عناصر جو کسی بھی سبوتاژ کی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں اُن کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات جمع کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقع سے پہلے بد امنی پھیلانے والوں کو گرفتار کریں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے میں شیعہ و سنی دونوں مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے اور اُن کے تحفظات اور خدشات کو دور کیا جا رہا ہے جس پر شیعہ اور سنی علماء نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں