’پابندیوں کی وجہ سے کوئی سرمایہ کاری کو تیار نہیں‘

شاہد خاقان عباسی
Image caption شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لے کر اسے عملی اقدامات کے قابل بنانا ہوگا

پاکستان میں وفاقی وزیرِ برائے پٹرولیم اور معدنی ذخائر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ایران پر عائد عالمی پابندیوں کی موجودگی میں پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے کوئی بھی غیر ملکی ادارہ سرمایہ کاری کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایران کی جانب سے مالی معاونت سے انکار کے بعد منصوبے کے لیے سرمایہ کاری کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’ایران پر پابندیوں کی موجودگی میں غیر ملکی سرمایہ کاری تو ممکن نہیں ہے لیکن کچھ فریقین اس کے لیے رقم لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ہماری ان سے بات چیت جاری ہے۔‘

گیس پائپ لائن:’پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لے کر اسے عملی اقدامات کے قابل بنانا ہوگا۔

اس منصوبے کے نتیجے میں امریکہ یا یورپ کی جانب سے پابندیوں کے خطرے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھی غورو فکر کیا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے مالی معاونت کا فیصلہ واپس لینے کی وجہ بتاتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام سے سابقہ ملاقات میں یہ بات ہوئی تھی اور ایران نے کہا تھا کہ ان پر کچھ اقتصادی دباؤ ہیں۔‘

انہوں نے بتایا ’اس سے پہلے ایران نے گیس پائپ لائن کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد کی پیش کش کی تھی لیکن وہ صرف ایک ایرانی ٹھیکیدار کے اس منصبوے پر کام کرنے کی صورت میں تھی۔‘

’تاہم اب ایران کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے اب کوئی بھی ٹھیکیدار ہو اب یہ ان کی ترجیح نہیں ہے لہٰذا وہ اس کے لیے رقم بھی مہیا نہیں کر سکتے۔‘

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’ایرانی کنٹریکٹر کی جانب سے لگائی گئی بولی بہت زیادہ تھی اس لیے ایسا ممکن تھا بھی نہیں اور اس کے لیے رقم ہم نے خود ہی اکٹھی کرنی ہے۔‘

پاکستان میں سی این جی سٹیشنز اور صنعتوں کو گیس کی فراہمی تین ماہ کے لیے معطل کی گئی ایسے میں یورپ نے پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو برآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن پاکستان میں کپڑے کی صنعت کے لیے یہ خبر اچھی ہو کر بھی خوش کن نہیں ہے۔

Image caption شاہد خاقان عباسی کے مطابق ٹاپی ( ترکمانستان، افغانستان ، پاکستان اور انڈیا) پائپ لائن منصوبے سے 2017 تک گیس حاصل ہونے کی امید ہے۔

اس حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وہ کسی طور گیس کی سپلائی ممکن بنا کر برآمدات کرنے والی صنعتوں کو گیس کی فراہمی کے لیے سوچ بچار کر رہے ہیں تاکہ گھریلو صارفین کو مشکل میں نہ ڈالا جائے۔

انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ کسی بھی صورت میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی معطل نہیں کی جائے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی بتایا کہ گیس کی درآمد کے لیے کم سے کم تین منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کی تکمیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک ٹاپی ( ترکمانستان، افغانستان ، پاکستان اور انڈیا) پائپ لائن کا تعلق ہے اس سے 2017 تک گیس حاصل ہونے کی امید ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’گیس کی فوری برآمد کا طریقہ تو ایل این جی (مائع قدرتی گیس) ہی ہے اور حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یکم نومبر2014 تک اس کی پہلی در آمد ممکن ہو جائے گی۔

اسی بارے میں