پیمرا کے چیئرمین کو برطرف کر دیا گیا

Image caption بیان کے مطابق چوہدری رشید کو قواعد و ضوابط کے مطابق صاف و شفاف طریقے سے تعینات نہیں کیا گیا تھا

پاکستان کے صدر سید ممنون حسین نے میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کے چیئرمین چوہدری رشید کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

صدرِ پاکستان نے یہ اقدام ملک کے وزیرِاعظم نواز شریف کی سفارش پر اٹھایا ہے۔

حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق چوہدری رشید احمد کی بطورِ چیئرمین پیمرا تعیناتی غیر قانونی تھی اور سپریم کورٹ کی طرف سے دیئے گئے رہنما اصولوں کی خلاف تھی۔

بیان کے مطابق چوہدری رشید کو قواعد و ضوابط کے مطابق صاف و شفاف طریقے سے تعینات نہیں کیا گیا تھا۔

انھوں نے بطور سیکریٹری اطلاعات کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو چیئرمین پیمرا کے عہدے کے لیے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا اور اس عہدے پر تعیناتی کے لیے کوئی صاف و شفاف طریقۂ کار اختیار نہیں کیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چوہدری رشید احمد کو گذشتہ حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف سے پیمرا کے قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر عبدالجبار کو کام کرنے سے روکنے کے بعد چیئرمین پیمرا تعینات کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور موجودہ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے چوہدری رشید کی تعیناتی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

خواجہ آصف کا موقف تھا کہ یہ تعیناتی پیمرا کے چیئرمین کی خالی آسامی سے متعلق سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی رہنما اصولوں کے مطابق نہیں کی گئی تھی۔

اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ’چیئرمین پیمرا کے لیے اس شخص کو تعینات کیا جائے جو پیمرا آرڈیننس میں اس پوزیشن کے لیے دی گئی ضروری اہلیت پر پورا اترتا ہو۔‘

اسی بارے میں