لاہور: شیعہ رہنما ناصر عباس ہلاک، مظاہرین کا احتجاج

Image caption تحفظِ عزاداری کونسل نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شیعہ رہمنا ناصر عباس کی نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد مظاہرین ان کی میت لے کر گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے لاہور کے ڈی آئی جی اپریشنز رانا عبدالجبار کے حوالے سے بتایا کہ ناصر عباس اتوار کو رات دیر سے ایف سی کالج کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی ٹی وی چینل پر مظاہرین کو لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

اہل سنت والجماعت کے صوبائی رہنما فائرنگ سے ہلاک

وحدت المسلمین کے رہنما سمیت دس ہلاک

ویڈیو فوٹیج میں ناصر عباس کی سفید رنگ کی گاڑی کو بھی دکھایا گیا جس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔

لاہور کے ڈی آئی جی اپریشنز کے مطابق جب عباس ناصر قومی مرکز شادمان میں مجلسِ عزا سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے تو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی کالج کے قریب فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔

رانا عبدالحبار نے کہا کہ ناصر عباس کو شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ناصر عباس کا تعلق ملتان سے تھا اور وہ مجالس میں خطاب کے لیے لاہور آئے تھے۔وہ ملتان میں وحدت مسلمین کے رہنما تھے۔

وحدت مسلمین کے ترجمان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

تحفظِ عزاداری کونسل نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے 6 دسمبر کو لاہور ہی میں ہی حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اہل سنت والجماعت کے رہنما مولانا شمس الرحمان معاویہ ہلاک ہوئے تھے۔

مولانا شمس الرحمان معاویہ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے کارکنوں نے اسلام آباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

حالیہ مہینے کے اوائل میں ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں اہل سنت و الجماعت کے کارکن مفتی احمد اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما دیدار جلبانی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر فرقہ وارانہ جھڑپوں میں دس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں سال اگست میں ہی پنجاب کے ضلع بھکر میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں 11 افراد ہو گئے تھے جس کے بعد ضلعے میں کشیدگی کے باعث دفعہ 144 نافذ کر کے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں