قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ تیار ہے : چودھری نثار

Image caption چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا طریقہ پہلی ترجیح ہوگا

پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی کا مسودہ تیار کرلیاگیا ہے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس کا جلد اعلان کردیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر نے اتوار کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی تین حصوں پر مشتمل ہوگی، پہلا حصہ اس کی حکمت عملی پر مشتمل ہوگا، دوسرا اس کے اطلاق پر مبنی ہوگا اور تیسرا خفیہ رکھاجائے گا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا طریقہ پہلی ترجیح ہوگا اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں دوسرے طریقے اختیار کیے جائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ پالیسی کے مطابق تمام اقدامات پر عمل درآمد کے لیے ایک نظام الاوقات ہوگا اور ایک سال میں ایک نظام کام شروع کر دے گا۔ وزیرِ داخلہ نے کلعدم تحریکِ طالبان کے ساتھ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی کوششوں میں خاطر خوا کامیابی نہ ملنے کا الزام امریکی ڈرون حملوں پر لگایا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ڈرون حملے نہ ہوتے تو اب تک مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوچکی ہوتی۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ امریکی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ طالبان رہنما پر حملہ جان بوجھ کر نہیں کیاگیا تھا لیکن حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے نشانہ بنایاگیا۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی چوہدری نثار علی خان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بڑھانے میں ناکامی کا الزام امریکی ڈرون حملوں پر لگا چکے ہیں۔

گیارہ نومبر کو قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ جب تک ڈرون حملے نہیں روکیں گے اُس وقت تک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھےگا۔

اُنھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں نہ تو پاکستان کی افواج اور نہ ہی پاکستانی حکومت کا کوئی ہاتھ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کیا جانے والا ڈرون حملہ(جس میں حکیم اللہ ہلاک ہوئے تھے) کسی شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے تھا۔

ادھر واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کرنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی حکومت عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے فوجی حکمت عملی نہیں اپناتی۔

تاہم پاکستان کا اس حوالے سے موقف ہے کہ ڈرون حملے اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

اسی بارے میں