’بنگلہ دیش اکہتر کےمعاملات کو زندہ نہ کرے‘

Image caption پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے عبدالقادر ملا کو پھانسی دیے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے

پاکستان کے ایوانِ زریں یعنی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقار ملا کو پھانسی دینے کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی ہے۔

تاہم اس قرار داد پر ایوان میں موجود حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی کے دستخط موجود نہیں ہیں۔

’ملا کو پاکستان سے وفاداری پر پھانسی دی گئی‘

عبدالقادر ملا کو پھانسی دے دی گئی

یہ قرارداد جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی شیر اکبر نے پیش کی تھی۔

اس قرارداد میں کہا گیا ہے ’یہ ایوان بنگلہ دیش کے بزرگ راہنما عبدالقادر ملا کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداش میں پھانسی دینے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘

اس قرارداد میں عبدالقادر کے خاندان سے تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا اور بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 1971 کے معاملات کو دوبارہ زندہ نہ کرے۔

جماعت اسلامی کی اس مذمتی قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے تمام مقدمات کو افہام وتفہیم کے جذبے کے تحت ختم کیا جائے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ وفاداری نبھانے والے شخص کو پھانسی دے کر عدالتی قتل کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عبدالقادر ملا متحدہ پاکستان کے حامی تھے اور اب گڑے مردے اُکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد تمام محب وطن پاکستانیوں کو شدید دکھ ہوا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کو علیحدہ ہوئے بیالیس سال کا عرصہ گُزر چکا ہے لیکن اس عرصے کے دوران رویوں میں تبدیلی نہیں آئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی سے سبق نہیں سیکھا گیا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان دو لخت ہوا تھا تو اُس وقت بچے اور بوڑھے تمام لوگ خون کے آنسو روئے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے بعد بھی رویوں میں جمہوری پن نہیں آیا اور نہ ہی ہم نے اس سانحہ سے کوئی سبق حاصل کیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت اس قرارداد میں جماعت اسلامی کے ساتھ ہے اور اُن کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

یاد رہے کہ عبدالقادر ملا کو پھانسی کے بعد پاکستان میں جماعت اسلامی کی طرف سے ملک گیر مظاہرے ہوئے تھے اور عبدالقادر ملا کی مختلف شہروں میں غائبانہ نمازجنازہ بھی پڑھائی گئی تھی۔

اس واقعہ کے بعد دفتر خارجہ کی طرف سے بھی ایک بیان جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان عبدالقادر ملا کی پھانسی کے بعد بنگلہ دیش اور علاقے میں ہونے والی تبدیلی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کی حکومتی بینچوں پر لوگوں نے حمایت کی تاہم پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا۔

پیپلز پارٹی نے اس قراداد کو یہ کہہ کر مسترد کیا گیا کہ یہ بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ تاہم پاکستان کے وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پہلے اس قرارداد کے متن کو پڑھا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں