پشاور: بم دھماکے میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے تین اہل کار ہلاک

Image caption پاکستان میں بم ڈسپوزل سکواڈ کو مہیا کیا جانے والا حفاطتی لباس بہت زیادہ مقدار کے بارودی مواد کے سامنے مؤثر ثابت نہیں ہوتا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے تین اہل کار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکہ مضافاتی علاقے بڈہ بیر میں ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں بی ڈی ایس انچارج عبدالحق خان بھی شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں مضافاتی علاقے شیخ محمدی میں بم کی اطلاع ملی تھی جسے ناکارہ بنانے کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہل کار وہاں جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں جس بم کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی اسے دوسری ٹیم نے ناکارہ بنا دیا ہے۔

پشاور میں بڈہ بیر کا علاقہ دو قبائلی علاقوں خیبر ایجنسی اور درہ آدم خیل سے متّصل ہے۔ اس لیے شدت پسندوں کے لیے یہاں رسائی نسبتاً آسان ہیں۔ یہاں اکثر دھماکے بھی ہوتے ہیں اور سکولوں پر حملے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

قبائلی علاقوں کے بعد اگر پشاور شہر کے کسی بندوبستی علاقے میں سکولوں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں تو وہ بڈہ بیر کا ہی علاقہ ہے۔

گذشتہ برس بھی ستمبر میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے انسپکٹر حکم خان بڈہ بیر میں ہی بم ناکارہ بنانے کی کوشش میں زخمی ہو کر ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں