شیعہ عالم کی میت ملتان روانہ، گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا

Image caption تحفظِ عزاداری کونسل نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما علامہ ناصر عباس کی نماز جنازہ گورنر ہاؤس لاہور کے سامنے ادا کردی گئی جس کے بعد ان کی میت کو ان کے آبائی شہر ملتان روانہ کردیا گیا۔

میت کی روانگی کے باوجود گورنر ہاؤس کے باہر شیعہ برادری کا اجتجاجی دھرنا جاری ہے۔

اہل سنت والجماعت کے صوبائی رہنما فائرنگ سے ہلاک

وحدت المسلمین کے رہنما سمیت دس ہلاک

مظاہرین کا کہنا ہے کہ دھرنا علامہ ناصر عباس کے قاتلوں کی گرفتاری تک جاری رہے گا۔

علامہ ناصر عباس اتوار کی رات نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار نے پیر کی صبح میڈیا کو بتایا کہ اتوار کو رات دیر گئے ایف سی کالج کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں علامہ ناصر عباس ہلاک ہوئے تھے۔

اتوار کی صبح پولیس کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی مظاہرین لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ انھیں پر امن طریقے سے منتشر کرنے کے لیے کوشش جاری رکھے گی۔

علامہ ناصر عباس کے قتل کا مقدمہ لاہور تھانہ گارڈن ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ ان کے ڈرائیور کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد میت دبارہ گورنر ہاؤس لائی جائے گی اور وہیں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی جس کے بعد میت کو ان کے آبائی علاقے ملتان روانہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب گورنر پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے

ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں ناصر عباس کی سفید رنگ کی گاڑی دکھائی گئی جس کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق جب عباس ناصر قومی مرکز شادمان میں مجلسِ عزا سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے تو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی کالج کے قریب فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔

ناصر عباس کا تعلق ملتان سے تھا اور وہ مجالس میں خطاب کے لیے لاہور آئے تھے۔ وہ ملتان میں وحدت مسلمین کے رہنما تھے۔

وحدت مسلمین کے ترجمان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

تحفظِ عزاداری کونسل نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے چھ دسمبر کو لاہور ہی میں ہی حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اہل سنت والجماعت کے رہنما مولانا شمس الرحمان معاویہ ہلاک ہوئے تھے۔

مولانا شمس الرحمان معاویہ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے کارکنوں نے اسلام آباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

حالیہ مہینے کے اوائل میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں اہل سنت و الجماعت کے کارکن مفتی احمد اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما دیدار جلبانی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشور کے موقع پر فرقہ وارانہ جھڑپوں میں دس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

رواں سال اگست میں ہی پنجاب کے ضلع بھکر میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں 11 افراد ہو گئے تھے جس کے بعد ضلعے میں کشیدگی کے باعث دفعہ 144 نافذ کر کے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں