کرم ایجنسی: دھماکوں میں دو افراد ہلاک

Image caption خیال رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے ملک کا انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح باردوی سرنگ کے تین مختلف دھماکوں میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور چھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کرم ایجنسی کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکے منگل کی صبح اپر اور سنٹرل کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں میں پیش آئے۔

انھوں نے کہا کہ سنٹرل کرم ایجنسی کے علاقے پیواڑ تنگی میں ایک مسافر گاڑی سڑک پر جا رہی تھی کہ راستے میں بارودی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بن گئی جس میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ مرنے والے افراد عام شہری بتائے جاتے ہیں۔

اہل کار کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے سنٹرل کرم ایجنسی کے علاقے میں بھی ایک سڑک کے کنارے نصب باردوی سرنگ کے دو دھماکے ہوئے جس میں تین افراد زخمی ہوئے۔ تاہم ان دھماکوں کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی اور نہ ہی کسی تنظیم نے ان کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں گذشتہ چند مہینوں سے سڑک کے کنارے نصب باردوی سرنگ کے دھماکوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بیشتر واقعات میں مسافر گاڑیاں نشانہ بنتی ہیں جس سے عام لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں قبائلی دشمنیاں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات بڑھ رہے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ان دھماکوں کو رکنے کے حوالے سے اقدامات نظر نہیں آتے۔

خیال رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے ملک کا انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ ماضی اس ایجنسی میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔