پاکستان میں تحقیق تنزل کا شکار

Image caption پاکستان میں 1996 سے 2012 کے دوران 16 برس کے عرصے میں کل 58 ہزار تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے

کسی بھی معاشرے میں سائنسی رسائل اور جرائد نہ صرف تحقیق و ترقی کے ہراول دستے کا کام کرتے ہیں، بلکہ ان میں شائع ہونے والی تحقیق سے معاشی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان میں گذشتہ پانچ برسوں میں تحقیق کے معیار میں اس حد تک کمی واقع ہوئی ہے کہ ملک بیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔

یہ بات ممتاز محقق پروفیسر سلطان ایوب میو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔

پروفیسر سلطان یورپیئن ریویو فار میڈیکل اینڈ فارماکولاجیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے شریک مصنف ہیں۔ اس مقالے میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شائع ہونے والے مقالہ جات کا معیار 2008 کے بعد سے تنزل کا شکار ہے۔

مقالے کے مصنفین کے مطابق کسی بھی ملک میں ہونے والی تحقیق کی صحت کا اندازہ اس ملک میں شائع ہونے والے تحقیقی جرائد سے لگایا جا سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ تحقیق کاروں کے مطابق سائنسی تحقیق کا کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔

امریکہ اگر ترقی کے میدان میں سب سے آگے ہے تو تحقیق کے میدان میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ سائنسی رسائل کی درجہ بندی کرنے والی ویب سائٹ ایس جے آر کے مطابق امریکہ میں گذشتہ 16 برسوں میں 70 لاکھ تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے، جو اس کے بعد آنے والے چار ممالک یعنی چین، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے مجموعے سے بھی زیادہ ہیں۔

Image caption پچھلے 16 برسوں میں مقالہ جات کی تعداد کے لحاظ سے قائداعظم یونیورسٹی پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے

بین الاقوامی سائنسی اور علمی جرائد پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ایس جے آر کے مطابق پاکستان میں 1996 سے 2012 کے دوران 16 برس کے عرصے میں کل 58 ہزار مقالہ جات شائع ہوئے۔ اس کے مقابلے پر بھارت میں اسی دوران ساڑھے سات لاکھ تحقیقات منظرِ عام پر آئیں۔

اسی دورانیے میں چین میں 26 لاکھ مقالہ جات شائع ہوئے۔

چین نے حالیہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں قابلِ رشک حد تک ترقی کی ہے۔ چین میں سائنسی تحقیق کی اشاعت پر توجہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی اکیڈمی آف سائنسز ملک کے تحقیق کاروں کو نمایاں بین الاقوامی سائنسی جرائد میں کسی مضمون کی اشاعت پر 30 ہزار ڈالر انعام دیتی ہے۔

تاہم مقدار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، بلکہ تحقیق کا معیار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ٹامسن آئی ایس آئی رسائل کے معیار کی درجہ بندی بھی کرتی ہے، جسے ایچ انڈیکس کہا جاتا ہے۔

اس درجہ بندی کے مطابق پاکستانی رسالوں میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق کی رینکنگ 111 ہے، جب کہ ملک کا سب سے عمدہ سائنسی جریدہ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہے، جس کی رینکنگ 23 ہے۔ اس کے بعد جرنل آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کا نمبر آتا ہے۔

اس گراف میں دکھایا گیا ہے کہ 2008 کے بعد سے ان مقالہ جات کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے جن کا کسی اور مقالے نے حوالہ دیا ہو۔

Image caption اس گراف میں دکھایا گیا ہے کہ 2008 کے بعد سے ان مقالہ جات کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے جن کا کسی اور مقالے نے حوالہ دیا ہو (گراف بشکریہ یورپیئن ریویو فار میڈیکل اینڈ فارماکولاجیکل سائنسز)

مقابلتاً بھارت کی رینکنگ 301 اور چین کی 385 ہے۔ حسبِ توقع امریکہ اس زمرے میں بھی سرِفہرست ہے اور اس کی رینکنگ 1380 ہے۔

پروفیسر میو نے کہا: ’اب دنیا نالج بیسڈ اکانومی (علم پر مبنی معیشت) کی جانب دنیا جا رہی ہے، جس میں پہلے ریسرچ ہوتی ہے، اس کے بعد ایجاد کا نمبر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہائی ٹیک ایکسپورٹس ہوتی ہیں۔‘

پروفیسر میو کی تحقیق کے مطابق تحقیقی مقالہ جات نشر کرنے کے لحاظ سے پاکستان کی یورنیورسٹیوں میں قائداعظم یونیورسٹی سرِفہرست ہے، جس میں گذشتہ 16 برسوں میں 4891 مقالہ جات شائع کیے۔

انھوں نے کہا کہ 2001 سے 2008 تک سائنسی میدان میں سب سے زیادہ ترقی ہوئی، جرائد کی رینکنگ بڑھی اور زیادہ تحقیق ہوئی، اس کے بعد گراف اس قدر نیچے آیا ہے کہ ملک 20 سال پیچھے چلا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 2008 کے بعد سے تمام سائنسوں میں زوال آ گیا ہے: ’اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فیکلٹی کو بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ باہر سے اساتذہ کو واپس لایا جائے اور آر اینڈ ڈی کا بجٹ بڑھایا جائے۔‘

اسی بارے میں