’بجلی سے محروم پاکستانیوں کو سورج کا سہارا‘

Image caption منتخب گھر کی خاتونِ خانہ کو ’روشنا بی بی‘کا خطاب دیا جاتا ہے

’جب دانت تھے تو چنے نہیں تھے۔ چنے ہیں تو دانت نہیں ہیں۔ پیسے نہیں تھے، سسٹم تھے۔ پیسے ہیں تو سسٹم نہیں ہیں۔‘

جنوبی پنجاب میں تحصیل یزمان کی بستی کالا پہاڑ کے محمد امیر کا ’سسٹم‘ خریدنے کا ارمان پاکستان کے دیہات میں شمسی بجلی کے تیزی سے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

صحرائے چولستان کی یہ بستی ایسے دیہی علاقوں میں سے ہے جہاں بجلی کا نظام موجود نہیں۔ اگر قریب کہیں ہے بھی تو کئی گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ رہتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دیہی باشندوں کی نظریں بجلی کی فراہمی کے ادارے واپڈا کی بجائے سورج پر ہیں۔

دیہات کو سورج کا سہارا: آڈیو رپورٹ

اپنی عزیزہ ’روشنا بی بی‘ کے کچے مکان میں کھڑے محمد امیر روایتی لالٹین کے مقابلے میں شمسی لالٹین کے فائدے گنواتے ہیں جو اُنھیں عطیے میں ملی ہے:

Image caption ایک لیٹر مٹی کا تیل ہر ہفتے لگتا تھا لیکن اب 80 سے 100 روپے کی بچت ہوتی ہے: محمد امیر

’ایک لیٹر مٹی کا تیل ہر ہفتے لگتا تھا لیکن اب 80 سے 100 روپے کی بچت ہوتی ہے۔‘

محمد امیر سمیت بستی کے پچاس خاندانوں کو ایک غیر سرکاری تنظیم بخش فاؤنڈیشن کی طرف سے شمسی لالٹینیں ملی ہیں۔ تنظیم کے اِس منصوبے کے سربراہ دانیال حسین کے مطابق پاکستان میں لاکھوں لوگوں بجلی سے محروم ہیں۔

’اِس چیز سے نمٹنے کے لیے ہم نے لائٹِنگ اے ملین لائیوز (دس لاکھ زندگیوں میں روشنی لانے کا) منصوبہ بنایا۔‘

منصوبے کے تحت بجلی سے محروم گاؤں کے ایک گھر پر پانچ سولر پینل نصب کیے جاتے ہیں جو دن میں پچاس لالٹینیں چارج کرتے ہیں، اور اِن خاندانوں کی راتیں روشن ہو جاتی ہیں۔

منتخب گھر کی خاتونِ خانہ کو روشنا بی بی کا خطاب دیا جاتا ہے۔ وہ شمسی نظام کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور معاوضے میں ہر لالٹین پر چار روپے یومیہ وصول کرتی ہیں۔

کالا پہاڑ کی ’روشنا بی بی‘ خواتین کو بااختیار کرنے کے اِس انوکھے طریقے کی پروا نہیں کرتیں اور معاوضہ نہیں لیتیں کیونکہ بستی والے اُن کے رشتہ دار ہیں۔

ملکی و غیر ملکی اداروں کے عطیات اور حکومت کے رعایتی منصوبوں کے باعث شمسی بجلی کے جدید اور ماحول دوست تصور کو اپنانے میں دیہی علاقے بظاہر شہروں کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے باڑہ بازار میں پانچ سال پہلے سولر پینل فروخت کرنے والی دو دکانیں تھیں جن میں سے ایک محمد فاروق کی تھی۔ آج کم سے کم 25 دکانیں شمسی توانائی پر چلنے والے گیزر، واٹر پمپ اور دیگر مصنوعات کا کاروبار کر رہی ہیں۔

محمد فاروق کہتے ہیں کہ ’زیادہ تر گاہک کشمیر، سوات اور چلاس جیسے پہاڑی علاقوں سے آتے ہیں جہاں بجلی نہیں ہے۔ خانہ بدوش بھی خریدتے ہیں۔گدھے پر رکھا ہوا سولر پینل سارا دن بیٹری چارج کرتا ہے۔ جب وہ رات کو رُکتے ہیں، لائٹ جلا لیتے ہیں۔‘

Image caption منصوبے کے تحت بجلی سے محروم گاؤں کے ایک گھر پر پانچ سولر پینل نصب کیے جاتے ہیں جو دن میں پچاس لالٹنیں چارج کرتے ہیں۔

شمسی بجلی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث نہ صرف سینکڑوں مقامی کمپنیاں وجود میں آ رہی ہیں بلکہ ہائی سیل پاور جیسی بین الاقوامی کمپنیاں بھی پاکستان میں شمسی توانائی کا مستقبل روشن دیکھ رہی ہیں۔

ہائی سیل پاور کے چیف ایگزیکٹیو مائیکل وینگ کہتے ہیں کہ ’ترقی یافتہ ملکوں کو شمسی بجلی کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے پاس روایتی بجلی بہت ہے۔ مہنگا ہونے کے باوجود وہ ممالک اِس ماحول دوست متبادل پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہیں۔‘

’لیکن پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔وہ پیٹرول کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ گیس کم ہے۔ سی این جی سٹیشن بند ہیں۔ کوئلہ سندھ میں ہے۔ ہوا سے بجلی مخصوص علاقوں میں ممکن ہے۔ پانی کے بڑے ڈیم، ہمالیہ کے ساتھ ہیں۔ چین کی مدد کے بغیر جوہری بجلی گھر نہیں بن سکتے۔ پھر اُس بجلی کو ملک بھر میں پہنچانے کے لیے بہت رقم چاہیے۔ شمسی بجلی ہی قابلِ عمل اور فوری حل ہے۔ ایک بجلی گھر کے لیے دو یا تین پینل ہی تو چاہییں۔‘

محمد امیر کو یہی دو یا تین پینل خریدنے کا ارمان ہے۔ کچھ عرصہ پہلے چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے رعایتی قیمت کے منصوبے میں کالا پہاڑ کے چارگھرانے ہی سولر پینل خرید سکے۔ اُن کے ہاں ڈش ٹی وی اور پنکھے بھی چلتے ہیں جب کہ محمد امیر کے پاس صرف ’روشنا بی بی‘ کی لالٹین ہے کیونکہ وہ رعایتی قیمت بھی ادا نہیں کر سکے تھے۔

Image caption شمسی توانائی پر چلنے والے گیزر، واٹر پمپ اور دیگر مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے

حکومتِ پنجاب کالا پہاڑ سے کچھ فاصلے پر ایک ہزار میگا واٹ کا قائداعظم سولر پارک بنانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن مائیکل وینگ کا خیال ہے کہ سولر پارک کی بجلی صارفین تک پہنچانا طویل، کٹھن اور مہنگا مرحلہ ہو گا۔

ہائی سیل پاور کے اسلام آباد میں مینیجر رضا المصطفیٰ کا مشورہ ہے کہ’حکومت کو معیاری سولر پینل کی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ پینل کی درآمد پر رعایت ہے لیکن اِس کے ساتھ درآمد ہونے والی بیٹری اور آلات پر رعایت نہیں۔ شمسی بجلی کے پورے نظام پر رعایت ہونی چاہیے تاکہ اِس کی قیمت کم ہو سکے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ایک شہری گھر کی تمام برقی مصنوعات یا زراعت میں ٹیوب ویل مشین کو شمسی بجلی پر لانے کے لیے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

لاکھوں میں تو نہیں محمد امیر اپنے عزیزوں کے شمسی بجلی کے نظام کے بارے میں بتاتے ہیں کہ’انھوں نے 13 ہزار کا لیا تھا، مجھے 26 ہزار کا بھی ملے تو میں لینے کو تیار ہوں لیکن ملتا نہیں۔‘

محدود پیمانے پر درآمد، برائے نام ملکی پیداوار اور بیش قیمت ہونے کے وجہ سے چھوٹے شہروں یا دیہات میں سولر پینل کا کاروبار عام نہیں ہو سکا۔

ماہرین کی رائے ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان میں شمسی بجلی کی پیداوار کی صلاحیت جرمنی سے زیادہ ہے جو اِس متبادل ذریعے کے استعمال میں سرِفہرست ہے۔

بڑے اور طویل مدتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان کو شمسی توانائی کے شعبے میں انفرادی اور چھوٹی سطح پر بھی مالی حوصلہ افزائی کرنا پڑے گی تاکہ محمد امیر کی طرح بجلی یا مسلسل بجلی کے حصول سے محروم پاکستانی شہریوں کو جلد از جلد سورج کا سہارا بھی مل سکے۔

اسی بارے میں