’ایک سے پانچ سال کی عمر گداگری مافیا کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے‘

Image caption سیاہ برقعے میں ایک خاتون نے آکر کہا کہ تمہیں ڈاکٹر بلا رہی ہیں اور میں جب وہاں سے ہوکر آئی تو میری بچی بستر پر موجود نہیں تھی: رخسانہ

رخسانہ پنجاب کے علاقے جام پور سے اپنے شوہر عادل کے علاج کے لیے کراچی آئی تھیں لیکن یہاں اس کی اپنی زندگی کو روگ لگ گیا۔

رخسانہ نے کھانسی اور بخار میں مبتلا ڈیڑھ ماہ کی بیٹی سعدیہ کو سول ہسپتال میں داخل کیا تھا جہاں اس کو نامعلوم عورت اٹھاکر لے گئی اور اس کی گود خالی کرگئی۔

’سیاہ برقعے میں ایک خاتون نے آکر کہا کہ تمہیں ڈاکٹر بلا رہی ہیں۔ میں جب وہاں سے ہوکر آئی تو میری بچی بستر پر موجود نہیں تھی۔ میں نے اس کی تلاش کی لیکن کوئی پتہ نہیں چلا۔‘

رخسانہ کی شادی سوا سال پہلے ہوئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ پہلے ہی شوہر کی بیماری کی وجہ سے دکھی ہیں اور اب انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ دوبارہ ماں بن سکیں گی یا نہیں۔

’خدا نے مجھے پہلی اولاد دی تھی۔ خدا مجھے صبر دے۔ میری بیٹی مل جائے۔ میں یہاں علاج کے واسطے آئی تھی، اس لیے نہیں کہ دوسرا دکھ مل جائے۔ اب لوگوں کے طعنے سننے پڑیں گے کہ بچی کا خیال نہیں رکھ سکی۔‘

گلشن اقبال کی بستی قائد اعظم کالونی سے رواں سال جون میں فیض بخش کی دو سالہ بیٹی شمائلہ لاپتہ ہوگئی تھی۔ بیٹی کی تلاش میں والد نے چوکیداری اور ماں نے گھروں میں کام کاج چھوڑ دیا حالانکہ ان کے گھر کی گاڑی اسی پر چلتی تھی۔ اب دونوں بیٹی کی تلاش میں رہتے ہیں۔

فیض بخش کی اہلیہ عارضۂ قلب میں مبتلا ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ تھانے جاتے ہیں تو ان کی بالکل نہیں سنی جاتی اور بغض اوقات تو دروازے کے اندر داخل ہونے تک نہیں دیا جاتا ہے۔

روشنی نامی تنظیم لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے کام کرتی ہے۔ تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال دو ہزار سے زائد بچے لاپتہ ہوئے جن میں اسّی فیصد لڑکے تھے۔

روشنی ہیلپ لائن کے صدر محمد علی اپنی تحقیق کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ اگر ایک سال سے پانچ سال کی عمر کا کوئی بچہ لاپتہ ہے تو یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسے گداگری مافیا والے اٹھاکر لے گئے ہیں۔ ’یہ عمر ان کے لیے آئیڈیل ہوتی ہے کیونکہ اس عمر میں چہرے کے نقوش تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کوئی شناخت نہیں کرسکتا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اگر بچے کی عمر پانچ یا چھ سال سے زیادہ ہے اور وہ لڑ کی ہے تو زیادہ خدشہ یہی ہوتا ہے کہ اس کو جنسی زیادتی کے لیے اٹھایا گیا ہوگا۔ شہر کے مختلف علاقوں سے ایسی لاشیں ملتی رہی ہیں۔‘

کراچی پولیس کے مطابق رواں سال شہر سے پونے تیرہ سو سے زائد افراد کو اغوا کیا گیا جبکہ جبری طور پر گمشدہ بچوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لاپتہ بچوں کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی بلکہ صرف روزنامچے میں داخلہ کیا جاتا ہے جس کے باعث حقیقی تعداد سامنے نہیں آتی۔

دو سالہ عزیر الرحمان ناظم آباد میں گھر سے باہر نکلا تھا کہ رکشے میں سوار ایک برقعہ پوش خاتون بہ آسانی اس کواٹھاکر لے گئی۔

لطیف الرحمان کے پاس اس واقعے کی سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ موجود ہے لیکن یہ بھی اس کی کوئی مدد نہیں کرسکی ہے۔ ان کے مطابق اغوا کی واضح واردات نظر آنے کے بعد بھی یہ مددگار نہیں کیونکہ اس سے ملزمان کے چہروں کی شناخت نہیں ہوسکی۔

سٹیزن پولیس لیاژن کمیٹی پولیس اور شہریوں میں تعاون کے لیے کام کرتی ہے۔ تاجروں کی مالی مدد سے چلنے والے اس ادارے کا چھوٹے جرائم کے علاوہ اغوا کی وارداتوں کی روک تھام میں بھی کردار رہا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ سی پی ایل سی ان تمام لاپتہ بچوں کے والدین کی ایف آئی آر درج کرے جن سے پولیس نے انکار کر دیا ہے۔

سی پی ایل سی کے چیئرمین احمد چنائے کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے چھوٹے بچے زیادہ تر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان کی زیادہ شنوائی نہیں ہوتی۔ ’ان لوگوں کے پاس سی پی ایل سی کے علاوہ اور کوئی فورم نہیں، یہ ضرور ہے کہ ان کو شعور نہیں ہے۔‘

بچوں کی گمشدگی جب قانون کی کتاب میں صرف ایک واقعے کے طور پر رقم کی جائے اور اس واقعے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک نہ ہوں تو بچوں کو اٹھانا یا گم کردینا آسان ہو جاتا ہے۔

یہ بچے زیادہ تر غریب خاندانوں کے ہوتے ہیں جو کچھ عرصے تک رو پیٹ کر خاموش یا مایوس ہوجاتے ہیں۔

اسی بارے میں