پشتوگلوکارہ کے قاتل شوہر کو پھانسی کی سزا

Image caption پاکستان میں کافی عرصے سے کسی کو پھانسی کی سزا نہیں دی گئی ہے

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی پشتو کی گلوکارہ غزالہ جاوید کے قتل کے جرم میں عدالت نے ان کے سابق شوہر کو پھانسی کی سزا دی ہے۔

جہانگیر خان کو غزالہ جاوید اور ان کے والد کو جون سنہ 2012 میں فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے جرم کا مرتکب پایا گیا۔

غزالہ جاوید پر حملے میں ملوث دو افراد ابھی تک مفرور ہیں۔

جہانگیر خان کے وکیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ عدالت کی طرف سے دی گئی پھانسی کے سزا کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

غزالہ جاوید موسیقاروں کے خاندان میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ پاکستان، افغانستان اور دنیا بھر میں آباد پشتونوں میں بہت مقبول تھیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی موسیقی میں مغربی اور مشرقی موسیقی کی روایات کا امتزاج پایا جاتا تھا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد الیاس خان کا کہنا ہے غزالہ جاوید وادیِ سوات میں پیدا ہوئیں، جہاں اعلیٰ پائے کے گلوکار اور اداکار پیدا ہوئے۔

2006 اور 2007 میں جب سوات میں شدت پسندی کے باعث حالات بگڑنے لگے تو غزالہ جاوید خاندان سمیت وہاں سے پشاور منتقل ہو گئیں۔ یہاں آ کر انھوں نے ٹی وی پروگراموں میں حصہ لینا شروع کیا اور اس طرح بہت کم وقت میں انھوں بڑی شہرت حاصل کر لی۔

انھوں نے پشاور میں امن اور برداشت کے موضوعات پر گانا جاری رکھا لیکن طالبان سے خطرے کے پیشِ نظر انھوں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر رکھی تھی۔

غزالہ جاوید کی عمر 25 سال کے لگ بھگ تھی۔ انھوں نے جہانگیر نامی ایک امیر شخص سے شادی کر لی لیکن یہ شادی زیادہ دیر نہیں چل سکی اور جلد ہی میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لی۔

غزالہ جاوید نے شادی کے چھ ماہ بعد طلاق کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا لیکن عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہی انھیں قتل کر دیا گیا۔

ان کے قتل کے بارے میں مختلف باتیں مشہور ہیں۔ اس حملے میں ان کی بہن زخمی ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر میں گھس کر غزالہ جاوید اور ان کے والد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گلی میں فائرنگ کر کے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں