شہریوں کو’لاپتہ‘ کرنے والے اہلکارروں کے نام بتائیں: چیف جسٹس

Image caption وردی تو تحفظ کی علامت ہوتی ہے اگر وردی والے ہی’گم‘ کرنے لگیں گے تو عدم تحفظ کا احساس فروغ پائے گا: چیف جسٹس

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے قائم مقام سربراہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے ادارے کے اُن اہلکاروں کی فہرست عدالت میں پیش کریں جو مبینہ طور پر جبری گمشدگی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ وردی تحفظ فراہم کرنے کی علامت ہے اور اگر وردی والے ہی لوگوں کو زبردستی گمشدہ کرنے کے واقعات میں ملوث ہوں تو لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس تقویت پانا شروع کر دیتا ہے۔

’وزیر اعظم چاہیں تو لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو سکتا ہے‘

چیف جسٹس نے ایف سی کے قائم مقام سربراہ کو حکم دیا کہ وہ عوام میں موجود اس احساسِ محرومی اور بے بسی کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کریں۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال سے متعلق مقدمے کی سماعت کی تو ایف سی کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیئر خالد سلیم نے عدالت کو بتایا کہ انیس ایسے اہلکاروں کی شناخت ہوئی ہے جن پر شُبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ لوگوں کو جبری طور پرگمشدہ کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن میں چار افراد کا تعلق ایف سی سے ہے جن میں ایک اہلکار اللہ بخش کی شناحت ہوئی ہے جو کہ نان کمشنڈ آفسر ہے اور ان دنوں وہ عبوری ضمانت پر ہے جبکہ تین افراد کو شناحت کے عمل سے گُزارا جا رہا ہے۔

بریگیڈیئر خالد سلیم کا کہنا تھا کہ باقی اہلکار فوج میں واپس چلےگئے ہیں اور اس ضمن میں وزارت دفاع سے کہا گیا ہے کہ وہ اُن اہلکاروں اور افسران کی نشاندہی میں معاونت کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبے میں گمشدہ ہونے والے افراد کو بازیاب کروانے کے بعد ایک جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ صوبے سے 26 ڈاکٹروں کو اغوا برائے تاوان کے سلسلے میں اغوا کیا گیا ہے جبکہ 90 ڈاکٹر بلوچستان چھوڑ کر ملک کے دوسرے حصوں میں چلے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف کوئٹہ میں دو ہزار سے زائد ڈاکٹر موجود ہیں اور اُن کی سکیورٹی کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اب تک جتنے ڈاکٹر بازیاب ہوئے ہیں اُن میں سے کوئی بھی اغوا کاروں کے بارے میں معلومات دینے کو تیار نہیں ہے جس پر بینچ میں موجود امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر خود ہی تاوان ادا کرکے اوپس آتے رہیں گے اور قانون نافذ کرنے ولے اداروں کو ملزمان کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کریں گے تو پھر ان وارداتوں کا کیسے سدباب ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے نمائندہ گل محمد کاکڑ نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں معلوم ہے کہ اغوا کار کون ہیں لیکن وہ اس لیے نہیں بتاسکتے کیونکہ اس سے بازیاب ہونے والے افراد اور اُن کے اہلِ خانہ کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یونیفارم عوام کو تحفظ فراہم کرنے کےلیے دیا گیا ہے اور اگر شہری اخلاقی جرات کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو پھر یہ معاملہ کیسے حل ہوگا۔ اس مقدمے کی سماعت چھبیس دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

دوسری جانب ملاکنڈ کے حراستی مرکز سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے تیس افراد سے متعلق وزارت دفاع نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے اور عدالت سے اس رپورٹ کے مندرجات کو عام نہ کرنے کی استدعا کی ہے۔

اسی بارے میں