سابق ہاکی اولمپینز کو گمشدہ جنت کی تلاش

Image caption جب تک کھیلوں میں سیاسی بنیادوں پر تقرریاں ہوتی رہیں گی سپورٹس ترقی نہیں کرسکے گی: سمیع اللہ

سابق ہاکی اولمپیئنز کی بڑی تعداد جمعرات کے روز اسلام آْْْْباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوئی اور پاکستانی ہاکی کی مایوس کن صورتحال پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ان سابق کھلاڑیوں میں سمیع اللہ، شہناز شیخ، قمرضیا، سلیم ناظم، محمد ثقلین اور مسعود الرحمن قابل ذکر تھے۔

موسم کی خرابی کی وجہ سے چند اولمپینز اسلام آباد نہ پہنچ سکے۔

سابق اولمپین سمیع اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق کھلاڑیوں کے اس احتجاج کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستانی ہاکی کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومت اپنا کردار ادا کرے اور جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہوجاتا سابق اولمپیئنز اسی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آ کر احتجاج کرتے رہیں گے اور آئندہ احتجاج میں یہ تعداد بہت زیادہ ہوگی۔

Image caption قومی ہاکی کا معاملہ ایوان میں اٹھایا جائے گا

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ سابق اولمپینز گزشتہ کئی برس سے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہے ہیں کہ وہ پاکستانی ہاکی کو تباہی سے بچائے کیونکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر اور سیکریٹری نے قومی کھیل کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ سب کے سامنے ہے اور اب موجودہ عہدیداران بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ بین الصوبائی رابطے کے وفاقی وزیر سمیت متعدد اراکین قومی اسمبلی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ قومی ہاکی کا معاملہ ایوان میں اٹھایا جائے گا۔

سمیع اللہ نے کہا کہ کھیلوں میں جب تک سیاسی بنیادوں پر تقرریاں ہوتی رہیں گی پاکستانی سپورٹس کبھی ترقی نہیں کرسکے گی۔قاسم ضیا اور اختر رسول سابق کھلاڑی سہی لیکن وہ سیاسی بنیادوں پر ہاکی فیڈریشن میں آئے۔

سابق اولمپیئن شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ ہاکی گمشدہ جنت ہوگئی ہے اور یہ تمام سابق کھلاڑی اسے تلاش کرنے نکل پڑے ہیں۔

شہناز شیخ نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں سے وہ اپنی آواز حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہاکی کی اس سے بدترین حالت اور کیا ہوسکتی ہے کہ سینیئر ٹیم اولمپکس میں ساتویں نمبر پر آئی پھر ورلڈ کپ کے لیے بھی کوالیفائی نہ کرسکی اور اب جونیر ٹیم جونیئر ورلڈ کپ میں نویں نمبر پر آئی ہے۔

شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حالیہ الیکشن بھی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھے لہذا وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم جو فیڈریشن کے پیٹرن ہیں قومی کھیل کے معاملات پر توجہ دیں۔

اسی بارے میں