’ٹوئٹر کی دنیا میں مریم محتاط ہیں تو بلاول متنازع‘

Image caption مریم نواز شریف ٹوئٹر پر’عاجزانہ اور خوش اخلاق‘ رویہ رکھتی ہیں: رضا رومی

مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری، دونوں اپنی اپنی جماعتوں کا مستقبل ہیں اور نوجوان طبقے کی توجہ اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔

دونوں نے برطانیہ کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے اور ان دنوں سیاسی و ترقیاتی مہم چلا رہے ہیں اور اپنی تشہیر کے لیے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خاصے سرگرم ہیں۔

جہاں بھٹو اور شریف خاندانوں کے یہ چشم و چراغ اپنی اپنی جماعتوں کے نظریات کی عکاسی کر رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ ان کی اپنی پارٹی اور سینیئر قیادت سے علیحدہ کیا پہچان بنتی نظر آ رہی ہے؟

اس بات کا جواب جاننے کے لیے سوشل میڈیا ایک اچھا فورم ہے کیونکہ سیاسی رہنما اور مشہور شخصیات اس کے ذریعے براہِ راست اور اکثر عام لوگوں اور صحافیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

فرض کریں کہ آپ مریم نواز یا بلاول بھٹو کو نہ جانتے ہوں، تو بھی ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

40سالہ مریم نواز شریف کی ٹوئٹر تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی سوچ میں گم ہیں۔

وہ اپنے بارے میں کہتی ہیں: ’اپنے خوابوں اور تمناؤں کا دامن مت چھوڑیں، وزیرِاعظم کے یوتھ پروگرام سے آپ ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکیں گے اور آپ اپنی کامیابی کے خود مالک ہوں گے اور ساتھ نون لیگ کی یوتھ لون سکیم کی تشہیر بھی کرتی ہیں۔‘

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مریم نواز شریف ٹوئٹر پر محتاط رہتی ہیں اور صرف کام سے کام رکھتی ہیں۔

لیکن اس مضمون کے چھپنے کے بعد مریم نواز شریف نے اپنے محتاط رہنے کے بارے میں ٹویٹ کیا کہ ان کی رائے میں ان کے بارے میں ’یہ بات درست نہیں ہے۔‘

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے بی بی سی اردو کے ایڈیٹر کی ایک ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ انہیں ’اردو سے محبت ہے۔‘

انگریزی اخبار دی نیوز کے مدیر طلعت اسلم کہتے ہیں’مریم نواز شریف اپنی ذاتی رائے کم ہی دیتی ہیں، وہ اپنے بارے میں لکھی گئی تعریفی ٹویٹس کو دوبارہ ٹوئٹ کرتی ہیں اور پارٹی کے موقف کی حمایت کرتی ہیں۔‘

تجزیہ نگار رضا رومی کہتے ہیں کہ مریم نواز شریف ٹوئٹر پر’عاجزانہ اور خوش اخلاق‘ رویہ رکھتی ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ مردوں کی دنیا میں خاتون سیاست دان کو مردوں سے فاصلہ رکھنا پڑتا ہے جو ایک رکاوٹ بھی ہے، اسی لیے وہ محتاط رہتی ہیں۔’ایک خاتون سیاست دان ہونے کی وجہ سے وہ اپنی شخصیت کھل کر سامنے نہیں لا سکتیں۔‘

Image caption بلاول بھٹو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنی اور والدہ بینظیر بھٹو کے ہمراہ اپنی تصویر لگائی ہوئی ہے۔

اس کے برعکس بلاول بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ متنازع ہیں اور ’اشتعال انگیز‘ بھی۔ بلاول بھٹو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنی اور والدہ بینظیر بھٹو کے ہمراہ اپنی تصویر لگائی ہوئی ہے۔

اپنے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’میں شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہوں، پیپلز پارٹی کا سرپرستِ اعلیٰ ہوں، غربت مٹانے، انسانی اور خواتین کے حقوق کا حمایتی ہوں۔ مذاق خود ہی کرتا ہوں۔‘

آج کل وہ سندھی ثقافت کے میلے کے انتظام میں مصروف ہیں جس کی وہ ٹوئٹر پر تشہیر کر رہے ہیں۔

رضا رومی کہتے ہیں کہ ٹوئٹر پر ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بلاول نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہے، ان ہی میں سے ایک ہیں۔’پچیس سالہ بلاول پاپ کلچر کی مثالیں دیتے ہیں، مذاق کرتے ہیں، اور ان کی رائے کو بہت ٹویٹ کیا جاتا ہے۔‘

طلعت اسلم کہتے ہیں کہ’پی پی پی کے دیگر رہنما جو کہنے سے ڈرتے ہیں، چاہے وہ اقلیتوں کے حق میں ہو یا طالبان کے خلاف، بلاول کہنے سے ڈرتے نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول کو بہت سے نفرت انگیز پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں۔‘

ٹوئٹر پر مریم نواز شریف کے اس وقت دو لاکھ سے زیادہ جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ایک لاکھ سے زیادہ فالوئرز ہیں۔

تاہم بلاول بھٹو اس سال ٹوئٹر پر زیادہ متحرک نظر آئے ہیں۔ مریم نواز شریف کی سب سے مقبول ٹویٹ سات مئی 2013 کی ہے جس میں انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی صحت یابی کی دعا کی، جسے 188 بار دوبارہ ٹویٹ کیا گیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی سب سے مقبول ٹویٹ 444 مرتبہ دوبارہ ٹویٹ کی گئی۔

انھوں نے کہا تھا: ’پیارے برگر! معاف کیجیے کہ ہمیں شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے سکائپ، وائبر اور واٹس ایپ بند کرنا پڑ رہا ہے۔ تین ماہ کے لیے ایس ایم ایس کیجیے۔‘

اپنی جماعتوں کے لیے ان دونوں کی ٹوئٹر پر موجودگی کتنی اہم ہے؟

Image caption مریم نواز شریف کے اس وقت دو لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ایک لاکھ سے زیادہ ہیں

طلعت اسلم کہتے ہیں کہ مئی کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی سوشل میڈیا سے غائب ہو گئی تھی۔

’بلاول بھٹو کی ایسی شخصیت ہے کہ ان کے بارے میں لوگوں کی رائے بہت شدید ہے، یا ان سے نفرت کرتے ہیں، یا پسند۔ مگر انہیں نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ مریم نواز شریف نون لیگ کی سینیئر قیادت سے مختلف نظر آتی ہیں۔‘

رضا رومی کہتے ہیں’مریم نواز شریف سیاست میں جدت لائی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تہا کہ پنجاب کے شہری اور سوؤنگ ووٹرز کے لیے نون لیگ کا مقابلہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتہ ہے، جنھوں نے 2013 کے انتخابات میں سوشل میڈیا کا بہت مؤثر استعمال کیا تہا۔

’ٹوئٹر بااثر لوگوں، شہری آبادی اور بین الاقوامی میڈیا تک رسائی کا ذریعہ ہے۔‘

Image caption بلاول نے ٹوئٹر پر سوال کے جواب میں یہ تصویر بھیجی

خیال رہے کہ ان دونوں رہنماؤں، خاص کر بلاول بھٹو زرداری کو شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کی وجہ سے عوام سے براہ راست رابطے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

کئی لوگ سوال کرتے ہیں کہ سیاست دان کیا اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ خود ہی چلاتے ہیں یا نہیں۔اس کا جواب جب مریم نواز شریف سے ٹوئٹر پر پوچھا گیا تو جواب نہیں آیا۔

تاہم بلاول نے لکھا:’میں دوسرے سیاست دانوں کی طرح ٹوئٹر نہیں استعمال کر رہا۔ میں منہ پھٹ ہوں اور حقیقت پسند۔ میں سوشل میڈیا کو سوشل میڈیا کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ ویسے بھی کوئی بھی پی آر ٹیم اتنی حاضر جواب نہیں ہو سکتی۔‘

اور اس بات کا ثبوت دینے کے لیے کہ ٹوئٹر وہ خود استعمال کرتے ہیں انھوں نے اپنی تصویر بھی بھیجی۔

اسی بارے میں