کراچی:’خود کش‘ بم دھماکےمیں پولیس افسر زخمی

Image caption ایس ایچ او شفیق تنولی پر یہ ساتوان حملہ تھا

کراچی میں بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور پولیس افسر سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمی ایس ایچ او شفیق تنولی نے صحافی ولی بابر مقدمے کے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔

یہ واقعہ تقریباً رات نو بجے کے قریب پرانی سبزی منڈی کے قریب پیش آیا ہے۔ ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او ماڑی پور شفیق تنولی پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع پختون آباد میں اپنے گھر جا رہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل ان کی ڈبل کیبن گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

ان کے مطابق دھماکے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ایس ایچ او کو آغا خان جبکہ دیگر زخمیوں کو لیاقت اور سول ہپستال منتقل کیاگیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دو افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس حکام کو شبہ ہے کہ دھماکہ خود کش بھی ہوسکتا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے لیے پانچ کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے رواں سال ہی ہاکس بے کے قریب ان کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا تھا۔ جبکہ پاک کالونی، چل گوٹھ اور ماڑی پور میں دیگر حملے کیے گئے۔

انہوں نے جب جیو جیوز کے صحافی ولی بابر کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کیا تھا تو ان کے چھوٹے بھائی کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اپنے ایک انٹرویو میں شفیق تنولی نے بتایا تھا کہ انہوں نے جیسے ہی ولی بابر کیس کے ملزم کی گرفتاری ظاہر کرنے کے لیے پریس کانفرنس ختم کی تو ان کے پاس ایک ٹیلیفون آیا کہ جلد تمہیں انعام مل جائے گا۔ آٹھ گھنٹے کے بعد گلشن اقبال میں ان کے چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا گیا۔

شفیق تنولی ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی ٹیم میں بھی شامل رہے ہیں۔ وہ کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی گرفتاری کے علاوہ لیاری میں گینگ وار کے مبینہ سرغنہ ارشد پپو کو گرفتار کرنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ رواں سال کراچی میں پولیس اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ان حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

جیو نیوز چینل سے وابستہ صحافی ولی بابر کو جنوری 2011 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اس وقت ہلاک کیا گیا تھا جب وہ دفتر سے گھر جا رہے تھے۔

ولی بابر مقدمے کے چشم دید گواہ اور تفتیشی افسر سمیت اب تک چھ افراد کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی درخواست پر یہ مقدمہ کندھ کوٹ منتقل کر دیا ہے۔ اس منتقلی سے پہلے مقدمے کے سرکاری وکیل عبدالمعروف پر بھی حملے کی کوشش کی گئی تھی۔

اسی بارے میں